اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) میں چینج (تغیر) تو ہوگا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱
سیاسی مسلک سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔ بالآخر میں کچہری روڈ (لکھنؤ) کی مسجد سے اس طرح اٹھا کہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا اور میری زبان پر عربی کا یہ شعر تھا: اذا کان الغراب رئیس قوم سیهديهمم الى دار البوار اس کے بعد، ۱ اپریل 1967 کو ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (۱۹۴۷ء - ۱۹۱۳ء) سے ان کی لکھنؤ کی قیام گاہ (حضرت گنج) میں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر بالفرض آپ کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے مسلمانوں کی قسمت ہرگز بدلنے والی نہیں۔ کیوں کہ اس کے بعد جس کو اقتدار ملے گا وہ آپ نہیں ہوں گے بلکہ کانگریس ہی کی طرح کے دوسرے لوگ ہوں گے۔ یہ گفتگو پون گھنٹہ تک جاری رہی۔ جب وہ میرے دلائل کا جواب دینے سے عاجز ہو گئے تو انھوں نے یہ کہہ کر گفتگو ختم کر دی:
اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) میں چینج (تغیر) تو ہوگا
۱۹۶۷ء کے الیکشن کے نتیجہ میں اسٹیٹس کو میں چینج ہوا مگر اس کا مطلب صرف یہ تھاکہ کا نگریسی عناصر کی جگہ جن سنگھی عناصر حکومت میں غالب آگئے۔ "نئی دنیا کی دریافت" نئی سیاسی خندق میں گرنے کے ہم معنی بن گئی۔ شاید نادانی کی یہی وہ قسم ہے جس کے بارہ میں انگریزی کی یہ کہاوت بنی ہے کہ بیوقوف لوگ وہاں جاگتے ہیں جہاں فرشتے قدم رکھنے سے گھبراتے ہیں ؛
Fools rush in where angels fear to tread
"اسٹیٹس کو میں چینج کی اس منفی سیاست میں مسلمان پچھلے سو سال سے مبتلا ہیں۔ وہ پر شور سیاست چلا کر ایک برائی کو ہٹاتے ہیں اور اس کا نتیجہ طرف یہ ہوتا ہے کہ نئی شدید تر برائی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ اس قسم کی سیاست اسلامی نقطہ نظر سے سراسر باطل ہے۔ ایک فساد کو دوسرے فساد سے تبدیل کرنا شیطان کے کارندوں کا طریقیہ ہے نہ کہ خدا کے پیغمبروں کا۔
پاکستان میں مخصوص اسباب کے تحت اس قسم کی تخریبی سیاست کے لئے خصوصی مواقع موجود تھے۔ چنانچہ پچھلے تقریبا 40 سال سے یہ ملک اس قسم کی بے معنی سیاست کا اڈہ بنا ہوا ہے۔ یہاں بار بار یہ واقعہ ہورہا ہے کہ عہد ساز مفکرین اکھڑ پچھاڑ کے ذریعہ ایک سیاسی تبدیلی لاتے ہیں، صرف اس لئے کہ بعد کو یہ اعلان کریں کہ نیا دور پچھلے دور سے بھی زیادہ برا ثابت ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اسٹیٹ کے اس دور نے لوگوں کو موقع دے دیا ہے کہ وہ عملاً مخرب اسلام کا کردار ادا کریں۔ اس کے باوجود اپنے معتقدین کے درمیان وہ معمار اسلام کے پر فخر لقب سے یاد کئے جاتے رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues