Fools rush in where angels fear to tread
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴۴
پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کی مذکورہ قرار داد اپنے صفحات میں نقل کی ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے ایک نوٹ لکھا ہے جس میں یہ الفاظ درج ہیں:
’’یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو ان سربراہوں ، لیڈروں اور حکمرانوں سے کب نجات بخشے گا جو عملی نفاق میں مبتلا ہیں۔ ‘‘ ماہنامہ زندگی نے اس صورتِ حال کی ذمہ داری نہایت معصومانہ انداز میں ”حکمرانوں “ پر ڈالی ہے، حالاں کہ اس کی ذمہ داری خود سید ابو الاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی پر عائد ہوتی ہے۔ یہ لوگ ”ایشین کو میں پیچ‘‘ ، کو کام سمجھتے رہے۔ حالاں کہ نتیجہ کے اعتبار سے وہ فساد اور تخریب کے سوا اور کچھ نہ تھا حقیقت یہ ہے کہ زیادہ قرینِ انصاف بات یہ تھی کہ ماہنامہ زندگی لکھتا کہ ” یہ اللہ ہی کے علم میں ہے کہ وہ امت مسلمہ کو جھوٹے اسلامی رہنماؤں سے کب نجات بخشے گا۔ ‘‘ اس کے برعکس اس نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دی۔
افسوس کہ لوگوں میں اتنی جرأت بھی نہیں کہ وہ سیدھی طرح اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ وہ اپنی کھلی کھلی حماقتوں کا الزام بھی دوسروں کے سر پر مڈلنا چاہتے ہیں، صرف اس لئے کہ ان کا فخر ان سے نہ چھنے۔ اپنے جس قائد کو انہوں نے بطورِ خود ساز مفکر کا لقب دے رکھا ہے وہ بدستور اپنی جگہ پر باقی رہے۔ آپ کانٹے دار درخت کو پھل دار درخت بتا کر اس کا بیج بوئیں اور جب اس سے کانٹوں کا خبرت ظاہر ہو تو اس کی ساری ذمہ داری زمین پر ڈال دیں۔ تو یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ اپنی نااہلی کا الزام خدا کو دینا ہے۔ اگرچہ یہ بے حد سخت بات ہے مگر اس میں شک نہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے لیڈر ساری دنیا میں یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایک ہنگامہ اٹھاتے ہیں اور جب قانون قدرت کے تحت ان کی ہنگامہ آرائیوں کا الٹا نتیجہ سامنے آتا ہے تو فوراً اس کی تمام ذمہ داری دوسروں کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کہہ کر وہ خدا کی سچائی کو مشتبہ کرنا چاہتے ہیں نہ کہ کسی انسان کی سچائی کو۔ کیوں کیوں کہ جو نتیجہ بر آمد ہوا ہے وہ براہ راست قدرت کے قانون کی بنا پر بر آمد ہوا ہے نہ کہ حقیقتاً کسی انسان کی بنا پر۔
کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا کی دنیا میں خود اپنی مرضی کی دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے ٹھنڈ کو شاداب درخت کا نام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بے نور دئے پر روشن چراغ کا لیبل لگا کر خوش ہیں۔ وہ اپنی جھوٹی بڑائی کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں خواہ اس کی وجہ سے خدا کی بڑائی مجروح ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues