Al-Risala · November 1984 · page 14

زندگی کا انجام

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴

زندگی کا انجام

ماستی وینکا ٹیشا آئنگر (94 سال، کنٹر زبان کے مشہور مصنف ہیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ میور سول سروس میں شامل ہوئے۔ اپنی اعلیٰ خدمات کی بنا پر انھیں ریاست میسور کا وزیر ہونا چاہئے تھا۔ مگر ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔ چنانچہ وہ بد دل ہوکر وقت سے پہلے ریٹائر ہو گئے۔

ملازمت سے الگ ہو کر انہوں نے کہانیاں اور ناول لکھنا شروع کیا۔ اس میدان میں انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔ آج وہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب و بیرار اجیندر پر حکومت ہند نے ان کو گیان پیٹھ کا خطاب اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور انعام دیا ہے۔

مسٹر وی سری دھر موصوف سے ملے او ر ان سے ایک انٹروڈیو(ٹائمز آف انڈیا ۱۲ اگست ۱۹۸۴) لیا۔ مسٹر ماستی اگر چہ اپنی تمام کتابوں کو ادبی شاہکار سمجھتے ہیں۔ مگر حکومت کے اعلیٰ انعام پر وہ خوش نہ ہوسکے۔ انھوں نے کہا:

I am too old to be happy

یعنی ۷۹ سال کی عمر کو پہنچ کر میں اتنا زیادہ بوڑھا ہو چکا ہوں کہ کوئی خوشی میرے لئے خوشی نہیں۔ مسٹر ماستی کی پہلی کہانی ۱۹۱۴ میں شائع ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے انھیں اپنے ادبی کمالات کے اعتراف کے لئے ۷۰ سال انتظار کرنا پڑا۔ مگر لمبی مدت کے بعد جب انھیں عزت اور انعام ملا تو وہ وقت تھا جب کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے پر جھریوں کی مالا پہنا دی تھی۔

مسٹر مستی کی کہانی موجودہ دنیا میں ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ قصہ ہے کہ وہ محنت کرتا ہے۔ اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ بالآخر ”سترسال “ کی محنت کے بعد وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور انعام ملے۔ مگر اس وقت وہ بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی صبح یا شام موت آ جاتی ہے اور اس کو مجبور کرتی ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ایسی دنیا کی طرف چلا جائے جس کے لئے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues

Printed page