جھوٹی بڑائی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳
جھوٹی بڑائی
حضرت عمر فاروق بحیثیت خلیفہ مدینہ میں تقریر کر رہے ہیں۔ ایک شخص اٹھ کر کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگر ہم تمہارے اندر کوئی ٹیڑھ پائیں گے تو ہم اپنی تلوار سے اس کو سیدھا کر دیں گے (واللہ لو علمنا فيك اعوجاجا لقومناه بسيوفنا) بظاہر یہ نہایت سخت تنقید ہے اور بڑی گستاخی کی بات ہے۔ مگر نہ عمر فاروق اس کو برا مانتے اور نہ سارے مجمع سے کوئی ایک شخص اٹھ کر یہ کہتا کہ تم نے ایسا کیوں کہا۔ اس طرح کے تنقیدی واقعات صحابہ کے درمیان روزانہ پیش آتے تھے۔ صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔ مگر کبھی کسی نے اس کو برا نہ مانا۔ اگر کہا تو صرف یہ کہا کہ جو بات کہو تحقیق کے ساتھ کہو۔ نہ کہ بے تحقیق باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف رائے زنی کرنے لگو۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگ انساتوں کی عظمت میں نہیں جیتے تھے بلکہ صرف ایک خدا کی عظمت میں جیتے تھے۔ ان کے دل پر اس سے چوٹ نہیں لگتی تھی کہ کوئی شخص کسی انسان پر کیوں تنقید کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ بڑائی کا سارا حق صرف خدا کو دئے ہوئے تھے۔ اور انسانوں پر تنقید کرنے سے خدا کی بڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں اگر کسی شخصیت پر تنقید کر دیجئے نو خواہ وہ تنقید کتنا ہی علمی اور تحقیقی کیوں نہ ہو، اس کے معتقدین فوراً برہم ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں ہی کو اپنا بڑا بنائے ہوئے ہیں۔ پھروہ کیسے گوارا کرسکتے ہیں کہ ان کی بڑائی کا مینار گر جائے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ نماز اور اذان میں وہ اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے) کہتے ہیں مگر یہ صرف الفاظ ہیں جن کو لوگ زبان سے ادا کرتے ہیں۔ ورنہ حقیقۃً لوگ جس بڑائی میں جی رہے ہیں وہ انسان کی بڑائی ہے نہ کہ خدا کی بڑائی۔ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ غیر اللہ کی بڑائی میں جینے کا موقع صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان و آزمائش کی مدت ختم نہ ہو۔ اس کے ختم ہوتے ہی اس کا موقع بھی ختم ہو جائے گا۔ پھر جن لوگوں کی غذا انسان کی جھوٹی بڑائی ہو، وہ اس وقت کس چیز کو اپنی غذا بنائیں گے جبکہ تمام دوسری بڑائیاں ختم ہو جائیں گی اور خدا کی سچی بڑائی کے سوا کوئی بڑائی نہ ہوگی جس کو آدمی اپنی غذا بنائے۔ اور جس کے بل پر وہ جی سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues