Al-Risala · February 1984 · page 4

خدا سے نسبت

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴

خدا سے نسبت

ایک بزرگ فجر کی نماز کے وقت اپنے گھر سے نکلے اور تیزی سے مسجد کے لئے روانہ ہوگئے مگر جب وہ مسجد کے اندر داخل ہوئے تو ان کے قدموں کی رفتار سست ہوگئی۔ اس وقت اگر چہ پہلی صف میں کافی جگہ تھی۔ مگر وہ پیچھے کی صف میں رک گئے اور مسجد کے ایک کنارے بیٹھ کر جماعت کا انتظار کرنے لگے۔ نماز کے بعد ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت ، یہ کیا بات ہے کہ آپ مسجد کی طرف تیزی سے روانہ ہوئے مگر جب مسجد کے اندر پہنچے تو بڑھ کر اگلی صف میں جگہ لینے کے بجائے پچھلی صف میں ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔

بزرگ نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ جب میں گھر سے مسجد جانے کے لئے نکلا تو مجھ کو ایسا لگا کہ میں ایک ایسی جگہ جا رہا ہوں جہاں خدا کی رحمت و مغفرت تقسیم ہورہی ہے۔ اس وقت شوق ہوا کہ میں لپک کر جلدی سے وہاں پہنچوں۔ مگر جب اندر داخل ہوا تو خدا کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس مجھ پر غالب آگیا اور میرے قدموں کی رفتار اچانک سست پڑ گئی۔

آپ سست قدموں سے بھی تو اگلی صف میں جاسکتے تھے‘‘۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا۔ بزرگ نے کہا کہ تمہارا یہ کہنا صحیح ہے۔ مگر اس وقت مجھ پر یہ احساس طاری ہوا کہ خدا کی رحمت و مغفرت کا خزانہ تو ختم ہونے والا نہیں۔ اگر میں پیچھے بیٹھ جاؤں تب بھی اس کی تقسیم کا سلسلہ ضرور یہاں تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ بندے کی نجات کا دارو مدار اس پر ہے کہ وہ خدا کی صفات کا ادراک کرے۔ بندے اور خدا کے درمیان اس کی صفات ہی کے ذریعہ اتصال قائم ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص خدا کی صفتوں میں سے کسی صفت کا ادراک کرتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو خدا کی زد میں لاتا ہے۔ جس طرح سورج کسی کو اس وقت روشن کرتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو اس کی کرنوں کی زد میں لائے۔ اسی طرح ایک بندہ اس وقت اپنے رب کی زد میں آتا ہے جب کہ وہ خدا کی صفات کی معرفت حاصل کرے۔

بزرگ جب مسجد کی طرف جارہے تھے تو انھوں نے خدا کی یہ حیثیت دریافت کی کہ خدا دینے والا ہے، اس کے سوا کوئی دینے والا نہیں۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے خدا کے بڑے ہونے کو پہچانا اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو دریافت کیا۔ پہلے مرحلہ میں انھوں نے معطی ہونے کی حیثیت سے خدا سے نسبت قائم کی اور دوسرے مرحلہ میں خدا کے علی و کبیر ہونے کی حیثیت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page