خدا کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۵
خدا کی تلاش
ایک بے حد ذہین شخص تھا۔ وہ مستقل طور پر اس احساس میں مبتلا رہنا تھا کہ میں زندگی میں اپنے واقعی مقام کو نہ پاسکا۔ بالاخر اس نے خود کشی کر لی۔ اس نے اپنی خودکشی کی تحریر میں لکھا تھا : میں اپنی زندگی کو ختم کر رہا ہوں۔ کیوں کہ میں شاید ایسی دنیا میں بھٹک آیا جس کے لیے میں پیدا نہیں کیا گیا تھا۔
کمی کا یہ احساس اکثر ان لوگوں کا پیچھا کیے رہتا ہے جو فطرت سے غیر معمولی ذہن لے کر پیدا ہوئے ہوں ۔ وہ یا تو مایوسی اور ناکامی کی زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ کم تر ذہن رکھنے والوں میں ایسے لوگ کافی مل جائیں گے جو بظاہر مطمئن زندگی گزارتے ہوں۔ مگر برتر ذہن رکھنے والوں میں مشکل ہی سے کوئی شخص ملے گا جو مطمئن زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔
اس کی وجہ انسان کی معیار پسندی ہے۔ ہر انسان فطری طور پر آئیڈیل کی تلاش میں ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آئیڈیل کو پانا اتنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثل بن گئی ہے کہ معیار کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا : (Ideal cannot be achieved)
اب ہوتا یہ ہے کہ کم تر درجہ کا ذہن رکھنے والوں میں چونکہ شعور بہت زیادہ بیدار نہیں ہوتا۔ وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں کر پاتے۔ وہ اپنے موٹے ذوق کی وجہ سے غیر آئیڈیل میں کہی اس طرح مشغول ہوجاتے ہیں جیسے کہ وہ ان کا آئیڈیل ہو۔ مگر جو لوگ زیادہ ذہین ہیں وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے فرق کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں اور اس بنا پر آئیڈیل سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہیں کر پاتے۔
انسان کا آئیڈیل ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ اس کا خالق اور رب ہے۔ اعلیٰ ذہن کے لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ربانی مشن کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا وجود ہی آئیڈیل وجود ہے۔ اور خدا کے مشن میں اپنے کو مشغول کر کے ہی، ہم اس چیز کو پاسکتے ہیں جو ہماری پوری ہستی کو تسکین دے اور آئیڈیل کے بارہ میں ہمارے ذہنی معیار پر مکمل طور پر پورا اترے۔
انسان کا آئیڈیل اس کا خدا ہے، مگر وہ اپنے اس آئیڈیل کو تا کام طور پر غیر خدا میں تلاش کر رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues