تحقیق حال
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶
تحقیق حال
مولانا عبد الماجد دریا بادی نے جولائی (1900۶۵ کا ایک تجربہ ان الفاظ میں لکھا تھا " ایک دن دوپہر کی گاڑی سے کلیفرنیا یونی ورسٹی کے ایک استاد بے شان و گمان دریا باد پہنچے۔ اور دو ڈھائی گھنٹے کے سوال و جواب کے بعد واپسی کی ٹرین سے واپس ہو گئے۔ امریکہ کے صاف و شفاف بلوری سڑکوں کا عادی ہمارے قصبات کی ادھ پکی ادھ پکی کھا نچوں اور گڑھوں سے بھری ہوئی سڑکوں کا تصور بھی نہ کر سکتا ہوگا۔ اور پھر موٹر نشیں امریکی کے ذہن میں کھڑ کھڑے چرخ چوں ایکوں کی تصویریں بھی کیوں آنے لگیں تھیں۔ اور یہ تجربہ بالکل انوکھا نہیں۔ ایک اور امریکی پر وفیسر خاک پھانکتے آج سے چند سال قبل بھی آچکے تھے۔ ایسے عجوبہ سفر سے بڑھ کر عجوبہ سفر بھی غرض و غایت نکلا۔ موضوع مطالعہ و تحقیق ہندوستان میں تحریک خلافت کی تاریخ (تقریباً1919-1929) 1929 - اسی ایک کام کے لئے امریکہ سے ہندوستان، پاکستان کا سفر۔ اور مدراس، بنگلور، دہلی، حیدر آباد، کلکتہ، لکھنؤ، لاہور، کراچی وغیرہ کے علاوہ دریا باد تک کی پر مشقت مسافت۔ اور عین اسی زمانہ میں ایک دوسرے امریکی ریسرچ اسکالر اپنا موضوع لئے ہوئے ہندوستانی ممسلمانوں کی سیاسی تحریکات ( ۱۹ سے لیکر ۱۹۲۰ تک) ہندوستان کی خاک چھان رہے ہیں۔ اور دریا باد آنے پر ہر وقت آمادہ۔ لکھنؤ میں بیٹھے ہوئے ہیں کے حقیر ذخیرہ معلومات کامریڈ وغیرہ کی جلدوں) سے کام لے رہے ہیں (صدق جدید ۱۲ اگست ۱۹۶۵)
یہ اس قسم کی بے شمار مثالوں میں سے ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی قومیں کس طرح ہر قسم کے احوال سے اپنے کو باخبر رکھتی ہیں۔ تاکہ ان کی پلاننگ صحیح ہو۔ قدیم زمانہ میں صلیبی جنگوں میں شکست کے بعد سارے یورپ میں نئے قسم کے اہل علم جاگ اٹھے جن کو مستشرق کہا جاتا ہے۔ انھوں نے مشرقی اقوام (بشمول مسلمان) کی اتنی کامل تحقیق کی کہ ان کے بارے میں خود مشرقی اقوام سے زیادہ واقف اور باخبر ہو گئے۔ اس واقفیت سے انھوں نے زبردست فائدہ اٹھایا جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔
صلیبی جنگوں جیسا واقعہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ برعکس صورت میں پیش آیا۔ مگر موجودہ پورے دور میں مسلمانوں میں کوئی بھی مثال نہیں ملتی جب کہ سلم اہل علم نے مغربی اقوام کی برتری کا راز سمجھنے کے لئے حقیقی معنوں میں کوئی سنجیدہ کوشش کی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1984 All issues