Al-Risala · December 1984 · page 4

اژد ہے بھی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۴

اژد ہے بھی

اژ د ہے کا لفظ سنتے ہی ایک خطرناک جانور کا تصور سامنے آتا ہے۔ اژ د ہے کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ہندوستان کے جنگلوں میں اس خوفناک سانپ کی جو قسم پائی جاتی ہے اس کو ماہرین حیوانات مالورس اژدہا (Python molurus) کہتے ہیں۔ اس کی لمبائی ۲۰ فٹ ہوتی ہے اور وزن ۲۰۰ پونڈ سے زیادہ جب کہ وہ پورا ہو جاتے۔

تا ہم دوسرے وحشی جانوروں کی طرح اژدہا بھی کوئی خطر ناک جانور نہیں ۔ وہ کسی انسان یا کسی جاندار پر صرف دو حالتوں میں وار کرتا ہے ــــ جب کہ وہ بہت بھوکا ہو، یا اس پر حملہ کیا جائے۔ عام حالات میں وہ بالکل بے ضرر جانور کی طرح پڑا رہتا ہے۔ ایک ماہر حیوانات نے اژدہا کے طویل مطالعہ کے بعد لکھا ہے:

اژدہا، خواہ کتنا ہی بڑا ہو ، فطری طور پر وہ عصبی مزاج کا ہے۔ وہ دوسرے تمام سانپوں کی طرح کبھی باقصد حملہ نہیں کرے گا۔ اور نہ کبھی وہ جارح بنے گا۔ الا یہ کہ اسے مشتعل کر دیا جائے۔ اگر جنگل میں اس کا سامنا پیش آجائے تو وہ آواز نکال کر ڈرائے گا یا غائب ہو جائے گا مگر وہ نہ تو اٹھے گا اور نہ لڑائی کرے گا ، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے (ہندوستان ٹائمس ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۳) اژدہا کے اندر یہ خصوصیت محض اتفاقاً نہیں ، وہ براہ راست خالق کائنات کا منصوبہ ہے۔ اژدہا فطرت کی ایک خاموش پکار ہے۔ وہ عمل کی زبان میں انسان سے کہہ رہا ہے کہ ـــــ اگر تم اژدہا ہو تب بھی کسی کو نہ کاٹو ۔ اگر تم زور اور قوت میں دوسروں سے بڑھ جاؤ تب بھی دوسروں کو نہ ستاؤ۔

کیسا عجیب ہے وہ انسان جو ایک ایسی دنیا میں ظلم کرتا ہے جہاں شیر اور اژدہا تک کی سطح پر اس کو ظالم نہ بننے کا سبق دیا جا رہا ہے۔

ضروری گزارش

۱۔ خط و کتابت اور منی آرڈر میں اپنا خریداری نمبر یا ایجنسی نمبر ضرور لکھیں ۔ ۲۔ منی آرڈر کوپن پر اپنا پورا پتہ تحریر فرمائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page