Al-Risala · December 1984 · page 5

ناکامی زینہ بن گئی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۵

ناکامی زینہ بن گئی

اسپنسرس مدراس شہر کی ایک بہت مشہور دکان ہے۔ ایک بار آگ نے اس دکان کو برباد کر دیا۔ مگر اس نے بہت جلد اپنی تجارت دوبارہ بحال کر لی۔ اس طرح کہ اس نے اپنی دکان کے سامنے ایک تخته لگا دیا جس پر لکھا ہوا تھا، یقین جانئے، ہماری دکان آج واحد دکان ہے جہاں صرف تازہ مال موجود ہے :

When a fire devastated Spencers, Madras city's most famous store, it quickly regained business by putting up a sign reading:

"You bet ours is the only store today with nothing but fresh stocks."

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی بربادی سے دو چار ہونے کے بعد اگر اپنی عقل کو نہ کھوئے تو وہ نہ صرف دوبارہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ اپنی ناکامی کو اپنے لئے نئی کامیابی کا زینہ بنا سکتا ہے۔ مدراس کی مذکورہ دکان آگ سے جل کر تباہ ہوگئی تھی۔ بظاہر یہ بربادی کا واقعہ تھا۔ مگر اس واقعہ کو دکاندار نے زینہ کے طور پر استعمال کیا۔

دکان کے آگ میں جل جانے کے معنی یہ ہیں کہ پچھلا سامان جو دکان میں تھا سب ختم ہو چکا ہے۔ اب دکاندار نے فوراً نیا سامان لا کر دکان میں رکھ دیا اور پھر خریدار کی اس نفسیات کو استعمال کیا کہ وہ ہمیشہ تازہ بنا ہوا مال پسند کرتا ہے۔ اس نے جب مذکورہ اعلان کیا تو عوام نے فوراً اس کو صحیح سمجھ لیا۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ یہ دکان آگ میں جل کر تباہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے یقین کر لیا کہ اس کا سب سامان بالکل نیا ہے۔ اور خریداری کے لئے ٹوٹ پڑے۔ گزرے ہوئے نقصان کو اس نے بہت جلد زیادہ بکری کے ذریعہ حاصل کر لیا۔

اس دنیا کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ یہاں کوئی ناکامی ایسی نہیں جو آدمی کو آخری طور پر ناکام کر دے۔ یہاں ہر ناکامی میں ایک نئی کامیابی کا امکان چھپا ہوا ہے، تا ہم یہ امکان چیختا ہوا نہیں آتا۔ اس کو اپنی عقل سے سوچ کر نکالنا پڑتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ کسی نقصان یا بربادی سے دوچار ہونے کے بعد وہ مایوسی یا شکایت میں نہ پڑے بلکہ اپنی عقل کو نئی راہ تلاش کرنے میں لگا دے۔ وہ پائے گا کہ جہاں اس کے لئے ایک امکان ختم ہوا تھا وہیں دوسرا زیادہ بہتر امکان اس کا انتظار کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page