خواتین اسلام
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۶
خواتین اسلام
مشہور حدیث ہے کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (علم کو حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ) بظاہر اس حدیث میں صرف مسلم کا لفظ ہے ، مسلمہ کا لفظ نہیں ہے۔ مگر علم کا حصول مسلم خواتین پر بھی فرض ہے۔ محدثین نے صراحت کی ہے کہ اس حدیث میں" مسلمہ" کا لفظ بھی تبعاً شامل ہے۔ (ابن ماجہ) رجال اور طبقات کی کتابوں میں مردوں کی طرح عورتوں کی علمی خدمات کے تذکرے موجود ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دورِ اول میں خواتین کے درمیان علم کا کافی رواج تھا۔ امام بخاری نے چودہ سال کی عمر میں علم کے لئے سفر کیا تو وہ اس قابل ہو چکے تھے کہ بڑے بڑے اساتذہ سے استفادہ کر سکیں ۔ ان کے اندر یہ استعداد ان کی والدہ اور ان کی بہن نے پیدا کی تھی۔ امام ابن جوزی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کو ابتدائی تعلیم اپنی پھوپھی سے ملی۔ ابن ابی اصیبعہ کی بہن اور بیٹی علم طب کی ماہر تھیں اور آجکل کی زبان میں" لیڈی ڈاکٹر"تھیں۔ امام ابن عساکر نے فن حدیث کی تعلیم جن اساتذہ سے حاصل کی ان میں ایک سے زیادہ خواتین کے نام بھی آتے ہیں۔
دورِ اول میں علمی سرگرمی سب سے زیادہ احادیث اور آثار کی روایت کا نام ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے ساتھ صحابیات اور تابعین کے ساتھ تابعات نے بھی کثرت سے احادیث کو محفوظ کرنے اور بیان کرنے کا کام کیا ہے۔ حضرت عائشہ نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لئے ہوئے بہت سے علوم امت کو منتقل کئے اسی طرح اس زمانہ میں بہت سی خواتین ہیں جنھوں نے اپنے والدین اور اپنے ان رشتہ داروں سے روایات بیان کی ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا آپ کے اصحاب سے علم دین کی کوئی بات پائی تھی۔ ان خواتین نے اپنے رشتہ کے اہل علم سے اسلامی تعلیمات کو سیکھا اور ان کو دوسروں تک پہنچایا۔ اعلان الرسالہ دسمبر ۱۹۸۳ میں ایک مقالہ چھپا تھا جس کا عنوان تھا " منزل" اس مقالہ کا ترجمہ مراٹھی زبان میں کیا گیا ہے اور وہ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہو چکا ہے اس کی قیمت دوروپیہ ہے ۔ اور وہ حسب ذیل پتہ سے مل سکتا ہے ۔
فٹ ویل سیٹ سنٹر ۱۰۵۰ رویوار پیٹھ پونہ ۲ ۔
Fitwel Seat Centre, 1050 Reviwar Peth, Phone 411002
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues