Al-Risala · December 1984 · page 14

آج کا انسان

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴

آج کا انسان

دیکھنے میں ایک انسان دوسرے انسان سے الگ دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے سارے انسان یکساں ہیں۔ بولنے کے وقت لوگ الگ الگ الفاظ بولتے ہیں مگر کرنے کے وقت سارے لوگ ایک ہوجاتے ہیں۔

بنتا ہر کوئی اس قوم سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی اُس قوم سے۔ کوئی جزئی دین کا علمبردار ہے اور کوئی کلی دین کا۔ کوئی انسانیت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے اور کوئی قومیت کا۔ کوئی انفرادی انقلاب پر تقریر کر رہا ہے اور کوئی اجتماعی انقلاب پر۔ کوئی توحید کا چیمین بنا ہوا ہے اور کوئی قبر پرستی اور بزرگ پرستی کا۔ کوئی زمین کا احتساب کر رہا ہے اور کوئی آسمان کا۔

مگر یہ سارے فرق کہنے کے اعتبار سے ہیں۔ جب کرنے کا وقت آتا ہے تو سب کے سب ایک ہوجاتے ہیں۔ اب ہر ایک کا دین وہی بن جاتا ہے جس کو دوسرا شخص اپنا دین بنائے ہوئے ہیں۔ قول کے اعتبار سے سب کا دین الگ الگ ہے مگر عمل کے اعتبار سے سب کا دین ایک ہے۔

جہاں ذاتی مفاد کا معاملہ ہو وہاں لوگوں کی تمام قوتیں جاگ اٹھتی ہیں اور جہاں ذاتی مفاد نہ ہو وہاں وہ بالکل بے حس بنے رہتے ہیں۔ کوئی اپنے سے بڑھتا ہوا نظر آئے تو سارے لوگ حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جو شخص اپنے سے کم نظر آئے اس کو وہ حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اپنا آدمی ہو تو اس کی ہر بات صحیح نظر آتی ہے اور اگر غیر آدمی ہو تو اس کی ہر بات غلط دکھائی دیتی ہے۔ تعریف کرنے والے کی ہر شخص کے نزدیک زبردست قیمت ہے۔ اور جو شخص تنقید کرے وہ ہر ایک کی نظر میں بے قیمت ہو جاتا ہے۔ اپنے موافق بات کو سمجھنے کے لئے ہر آدمی ہوشیار ہے اور اپنے مخالف بات کو سمجھنے کے لئے ہر آدمی بے وقوف۔ جس سے کسی قسم کا مفاد وابستہ ہو اس کے لئے ہر آدمی با اخلاق بن جاتا ہے۔ اور جس سے کوئی مفاد وابستہ نہ ہو اس کے لئے ہر آدمی بے اخلاق ہے۔ کسی سے شکایت ہو تو اس کے بارہ میں آدمی ہر الٹی خبر کو بلا تحقیق مان لیتا ہے۔ اور جس سے دوستی ہو اس کے خلاف کوئی یقینی خبر ملے تب بھی وہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔

تقریر کی سطح پر ہر آدمی الگ الگ تقریر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر جینے کی سطح پر دیکھے تو ہر آدمی ایک ہی سطح پر نظر آئے گا۔ اور کسی آدمی کا دین وہی ہے جہاں وہ جی رہا ہے نہ کہ وہ جہاں وہ الفاظ کی نمائش کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page