Al-Risala · December 1984 · page 15

دنیا کے تابع

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵

دنیا کے تابع

سومنات مندر جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ۶ جنوری ۱۰۲۶ کو محمود غزنوی نے اسے ڈھادیا تھا اور پھر وہ دوبارہ بنایا گیا، یہاں آجکل ایک عجیب نزاع برپا ہے۔ اس تاریخی مندر میں مختلف مذہبی امور کی ادائیگی کے لئے ۱۲۵ آدمی مقرر ہیں۔ ان کو مندر کی طرف سے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس تنخواہ کی مقدار ۲۵۰ روپے ماہوار سے لے کر ۴۰۰ روپے ماہوار تک ہے۔ یہ تنخواہ ان کارکنوں کو کم محسوس ہوتی تھی۔ چنانچہ انھوں نے تنخواہ میں اضافہ کے لئے لیبر کورٹ میں دعویٰ کر دیا۔ مندر ٹرسٹ جن کے صدر مسٹر راجی ڈی سائی ہیں، اس کا کہنا ہے کہ سومنات مندر ایک مذہبی وقف ہے اور اس کا معاملہ ریلیجس ٹرسٹ ایکٹ کے تحت آتا ہے۔ دوسری طرف کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک صنعت ہے اس کا معاملہ انڈسٹریل ڈسپیوٹس ایکٹ کے تحت طے کیا جانا چاہئے ۔ مندر کے کارکنوں کا فائدہ اس میں ہے کہ مندر کو ایک صنعت قرار دیا جائے اور اس کا معاملہ انڈسٹریل ڈسپیوٹس ایکٹ کے تحت لیبر کورٹ میں طے کیا جائے۔ اس طرح ان کو صنعتی مزدوروں والی مراعات حاصل ہو جائیں گی جو ریلیجس ٹرسٹ ایکٹ کے تحت انہیں نہیں مل سکتیں (ٹائمس آف انڈیا یکم ستمبر ۱۹۸۴)

بظاہر یہ بڑی عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو آج تمام مذہب والوں کا یہی حال ہے، حتی کہ خود مسلمانوں کا بھی۔

مسلمان آج اسلامی تعلیمات کی تشریح عوامی خواہشات کی روشنی میں کرتے ہیں کیوں کہ اس طرح انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر وہ خالص حق کی روشنی میں اسلام کی تشریح کریں تو عوام کی بھیڑ فوراً ان کا ساتھ چھوڑ دے ۔ وہ اسلام کو زمانہ کے تابع کر کے پیش کرتے ہیں تاکہ ہر ایک کی موافقت انہیں حاصل رہے۔ اگر وہ زمانہ کو اسلام کے تابع بن کر پیش کریں تو کوئی ان کو ساتھ دینے والا نہ ملے۔

دین اصلاً آخرت کی چیز ہے۔ مگر دین کو آخرت کی چیز کی حیثیت سے لینے میں زیادہ قیمت ملتی ہوئی نظر نہیں آتی، اس لئے ہر آدمی دین کو دنیا کی چیز بنا کر اختیار کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ وہ اس کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کر سکے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو سومنات کو ڈھانے والے بھی وہیں نظر آئیں گے جہاں سومنات کو آباد کرنے والے نظر آتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page