پردہ ڈالنا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸
پردہ ڈالنا
سنگاپور سے انگریزی ناول کی ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے :
The Cry of the Halidon
اس کتاب کے آغاز میں کئی سطر کی ایک عبارت درج ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کتاب کے تمام حقوق محفوظ ہیں اور کسی بھی شکل سے اس کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا جب تک پبلشر کی پیشگی اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔ اس عبارت کے الفاظ یہ ہیں :
All rights reserved. No part of this publication may be reproduced, stored in a retrieval system, or transmitted, in any from, or by any means electronic, mechanical, photocopying, recording, or otherwise, without the prior permission of the publishers. کتاب پر بحیثیت مصنف کے رابرٹ لڈلم(Robert (Robert Ludlum) کا نام درج ہے۔ بظا ہر مذکورہ عبارت سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ پبلشر نے ہہنگی رائلٹی دے کر اس کے حقوق اشاعت حاصل کئے ہیں اور اب وہ چاہتا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس میں شریک نہ ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ پوری کتاب سرقہ ہے۔ کتاب کا اصل مصنف جونا تھن رائڈر (Jonathan Ryder) ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۷۵ میں لندن سے چھپی تھی۔ عین اسی کتاب کو اسی نام کے ساتھ سنگاپور کے پبلشر نے چھاپ لیا ہے۔ اس کی واحد ترمیم یہ ہے کہ اس نے مصنف کا نام بدل دیا ہے ( ہندوستان ٹائمز ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴)
بعض مرتبہ آدمی سچ صرف اس لئے بولتا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے جھوٹ پر پردہ ڈال سکے ۔ وہ حق کا اعلان صرف اس لئے کرتا ہے کہ اپنے باطل کو اس کی آڑ میں چھپا سکے۔ وہ خوب صورت الفاظ کا استعمال صرف اس لئے کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنی معنوی بدشکلی کو ڈھانک لے۔ وہ آگ بجھانے کے لئے اس لئے دوڑتا ہے کہ کوئی یہ نہ جانے کہ اسی نے آگ لگائی تھی۔
سنگاپور کے پبلشر نے خود تو سرقہ کیا ہے مگر وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شخص سرقہ کا معاملہ نہ کرے ۔ خود تو اس نے دوسرے کی چیز لے لی ہے مگر دوسرا کوئی اس سے اسے نہ لے۔ خود غرضی کی یہ قسم بھی کیسی عجیب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues