Al-Risala · December 1984 · page 22

The Cry of the Halidon

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲

کا انداز عام اکانومی کلاس سے مختلف رکھا جاتا ہے۔ خصوصی تحفے بھی دئے جاتے۔

میں نے سوچا کہ دنیا کا موجودہ نظام بھی انسان کو کس قدرد ھو کے میں ڈالنے والا ہے۔ دنیا میں یہ تمام فرق پیسے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہاں صرف پیسے کی زیادتی اور کمی پر ایک شخص کو اونچا درجہ مل جاتا ہے اور دوسرے کو نیچا۔ اس سے انسان اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ پیسہ ہی اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ وہ اپنی پوری زندگی اور ساری طاقت صرف پیسہ کو حاصل کرنے میں لگا دیتا ہے۔ وہ اسی میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وسیع تر زندگی کے اعتبار سے یہاں پیسے کی کوئی قیمت نہ تھی۔ یہ سوچ کر بے اختیار دل بھر آیا۔ میری زبان سے نکلا: کاش آج کے انسان کو بتایا جا سکے کہ زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر وہ کس چیز کو اپنا مسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یہی اصل دعوتی کام ہے۔ مگر یہی وہ کام ہے جس کو کرنے والا آج کوئی نہیں۔

ایک دنیا وہ ہے جس کا نام ”دہلی“ ہے۔ دوسری دنیا وہ ہے جس کا نام ”کوالالمپور“ ہے۔ دونوں ہمارے معلوم دائرہ کے مقامات ہیں۔ ایک آدمی دہلی سے کوالالمپور جارہا ہو یا کوالالمپور سے دہلی آرہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ وہ کہاں سے کہاں جا رہا ہے۔ اس کو اپنے آغاز اور اپنے انجام کا پورا یقین ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اور آخرت کا بھی ہے۔ ہر آدمی ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی موجودہ دنیا سے آخرت کی دنیا کی طرف جارہا ہے۔ وہ ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو اس واقعہ کا سچا یقین ہو۔ جو دوسرے سفر کا بھی اسی طرح زندہ احساس رکھتا ہو جس طرح وہ اپنے پہلے سفر کا زندہ احساس رکھتا ہے۔

بینکاک سے کوالالمپور جانے کے لئے دوسرا جہاز پکڑنا تھا۔ بینکاک کا ہوائی اڈہ دہلی کے ہوائی اڈہ سے زیادہ باقاعدہ اور زیادہ منظم نظر آیا۔ میں کاؤنٹر پر گیا تاکہ تھائی ائیرویز کی اگلی فلائٹ (۴۵) کے لئے بورڈنگ کارڈ حاصل کروں۔ کاؤنٹر پر کھڑی ہوئی خاتون نے میرا ٹکٹ لیا اور کمپیوٹر کی چند گنتیوں پر انگلی ماری اور اچانک میرے ٹکٹ اور ریزرویشن کی پوری تفصیل اسکرین پر آگئی۔ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر نے جو انقلاب برپا کیا ہے یہ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ کمپیوٹر گویا ایک قسم کا مشینی "حافظہ" ہے۔ آپ اس کے حافظہ میں بے شمار معلومات ڈال سکتے ہیں اور پھر ضرورت کے وقت بٹن دبانے پر ایک لمحہ میں وہ ساری معلومات سکرین پر نمایاں ہو کر آپ کے سامنے آجائیں گی۔

دوران پرواز ایئر ہاسٹس ناشتہ کے لئے مختلف قسم کا سامان میز پر رکھ کر لے آئی۔ ان میں سے مجھے اپنے لئے انتخاب کرنا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس میں زیادہ تر گوشت کی چیزیں تھیں یا مغربی طرز کے کھانے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page