The Cry of the Halidon
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱
اگر آپ اسپین اور بغداد کا الگ الگ مطالعہ کریں اور ملیشیا کا الگ تو آپ کو اس میں کوئی سبق نہیں ملے گا۔ مگر جب دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ عظیم سبق برآمد ہوتا ہے جس کی طرف اوپر کے اقتباس میں اشارہ کیا گیا ہے۔
جب میں ملیشیا کی طرف جارہا تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میں کسی ملک کی طرف نہیں جارہا ہوں بلکہ اسلام کی تاریخ کی طرف جارہا ہوں ۔ ایک ایسی تاریخ جو اہل اسلام کو یہ سبق دیتی ہے کہ اگرتمہارے پاس مادی اور عسکری طاقت موجود نہ ہو تب بھی تمہارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ تم اپنی فکری اور روحانی طاقت کو استعمال کر کے از سر نو اپنے لئے ایک نئی دنیا بنا سکتے ہو۔ ۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کو میں کو الالمپور کے لئے روانہ ہوا۔ روانگی کے وقت میرا جہاز رات کو ۲ بجے تھا۔ اسی طرح جب میں کو الالمپور سے واپس ہوا تو میں دوبارہ دہلی میں رات کے وقت اترا۔ جو لوگ باہر کی دنیا میں سفر کرتے رہتے ہیں انھیں اندازہ ہے کہ اس طرح غیر موزوں (Odd) اوقات میں سفر کرنے کا معاملہ زیادہ تردہلی میں پیش آتا ہے۔ یہ دراصل ملک کی پس ماندگی کی قیمت ہے۔ دہلی کے ایک انگریزی اخبار نے پالم ہوائی اڈہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:
Palam airport's main problem is overcrowding during the night hours. There is a lull all day. This happens because many countries do not allow night landings in order to eliminate noise. India cannot afford to follow their example because it would lose much of the traffic it gets. There is, therefore, bunching of aircraft leading to congestion پالم ایئر پورٹ کا بنیادی مسئلہ رات کے اوقات میں غیر معمولی بھیڑ ہے۔ یہاں سارے دن سکون رہتا ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اکثر ممالک شور کو ختم کرنے کے لئے رات کو اپنے یہاں جہاز اترنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ ہندوستان ایسی پابندی نہیں لگا سکتا ۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ اپنے اکثر مسافروں کو کھو دے گا۔ اس بنا پر یہاں رات کو جہازوں کی کثرت رہتی ہے جس کی وجہ سے یہاں رات کے اوقات میں بھیڑ بھاڑ رہتی ہے۔
اگر آپ قومی سطح پر پس ماندہ ہیں تو موجودہ مقابلہ کی دنیا میں بہر حال آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اسباب کی اس دنیا میں اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کی رات کو ۲ بجے میں تھائی ایئرویز ( فلائٹ ۳۰۴) کے ذریعہ دہلی سے روانہ ہوا۔ فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لئے ہوائی کمپنیوں کا معاملہ اس قدر خصوصی ہوتا ہے کہ ان کے لئے بورڈنگ کارڈ بھی زیادہ شاندار کاغذ پر چھاپے جاتے ہیں۔ یہاں ہر چیز کا معیار اعلیٰ ہوتا ہے۔ ہر چیز
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues