Al-Risala · December 1984 · page 26

The Cry of the Halidon

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

یہاں کا بڑا ہوٹل ہے مگر وہ شہر کے اندر واقع ہے۔ اس کے برعکس انٹر نیشنل ہاؤس شہر کے باہر پہاڑی کے دامن میں قائم کیا گیا ہے۔ یہاں چاروں طرف قدرت کے مناظر ہیں۔ نیز یہاں ہوٹل کے ماحول کے بجائے "علمی" ماحول ہے۔ یہاں ایک بڑی لائبریری بھی ہے۔ یہ دوسری جگہ مجھ کو زیادہ پسند آئی۔

ہالی ڈے ان کی ایک سجی ہوئی نشست گاہ کے دروازہ پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے (Rama Rama) اس سے مجھے شبہ ہوا کہ یہ شاید کوئی ہندو ہوٹل ہے۔ بعد کو میں نے ایک ملیشیائی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے معنی ملائی زبان میں تتلی کے ہیں۔ تحقیق سے پہلے ایک چیز کچھ نظر آتی ہے اور تحقیق کے بعد کچھ بن جاتی ہے۔

سینار کی طرف سے ہم کو جو بیگ دیا گیا تھا ، میں نے ایک ذمہ دار سے پوچھا کہ یہ ملیشیا کابنا ہوا ہے یا باہر کے کسی ملک کا۔ انھوں نے بتایا کہ ملیشیا کا۔ میں نے دوبارہ پوچھا: مسلم کار خانہ کا یا چینی کا رخانہ کا۔ انھوں نے مسکرا کر کہا " اگر چہ مجھے تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مگر یقین ہے کہ وہ چینی کا رخانہ کا ہو گا ۔ کیوں کہ میرے علم کے مطابق کو الالمپور میں مسلمانوں کا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جو ایسا بیگ سپلائی کر سکے۔ "

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملیشیا کی موجودہ صورت حال کیا ہے۔ یہاں مسلمان ۵۰ فی صد ہیں۔ حکومت پر ان کا قبضہ ہے۔ مگر تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ تر چینی کنٹرول کرتے ہیں۔

ہندوستان میں مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اکثریت ان کا استغلال کر رہی ہے۔ پھر ملیشیا کے بارہ میں وہ کیا کہیں گے جہاں حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے باوجود یہاں کی دولت کا بہت بڑا حصہ چینی اقلیت کے قبضہ میں ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی اقتصادی قوت کی بنا پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر دوسرے شعبوں پر بھی گہرے طور پر انداز ہوتے ہیں۔

عجیب اتفاق ہے کہ جس دن میں کو الالمپور پہنچا ٹھیک اسی دن مسٹر یا سر عرفات بھی اپنے وفد کے ساتھ یہاں آئے۔ وہ اپنے مقرر پروگرام سے ۵ گھنٹے لیٹ کو الالمپور پہنچے۔ ۲۵ جولائی کا مقامی اخبار وائٹس (New Straits Times) یا سر عرفات کی خبروں اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues

Printed page