The Cry of the Halidon
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
ہے۔
کوالالمپور میں میرا قیام پہلے دن ہالی ڈے ان (Holiday Inn) میں کمرہ نمبر ۲۱۹ میں رہا۔ مجھے یہاں نماز پڑھنے کی ضرورت ہوئی۔ اس وقت اتفاق سے کوئی قبلہ کا رخ بتانے والا نہ تھا۔ تردّد ہوا کہ کس طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے۔ اچانک میری نظر چھت کی طرف گئی تو چھت پر تیر کی شکل کا ایک کاغذ یا پلاسٹک کا ٹکڑا چپکایا ہوا تھا جس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا " قبلہ " یہ تیر بتا رہا تھا کہ قبلہ کی سمت کدھر ہے۔ چنانچہ اطمینان سے اس رخ پر نماز ادا کی۔ تیر نے موجودہ زمانہ میں ہتھیار کی حیثیت سے اپنی قیمت کھودی ہے مگر رخ کے نشان کے لئے اب بھی ساری دنیا میں اس کا کوئی بدل نہیں۔
ہوائی اڈہ سے ہوٹل آتے ہوئے جب ہم لوگ بازار سے گزرے تو سڑک کے دونوں طرف کی بڑی بڑی دکانوں پر ایسے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے جن پر انگریزی کے ساتھ چینی زبان میں بھی دکان کا نام لکھا گیا تھا۔ میلوں تک یہی منظر تھا۔ میرے ساتھی ( وزارت ثقافت کے سکریٹری ) نے بتایا کہ جن جن بورڈوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا ہے وہ چینیوں کی دکانیں ہیں۔ میں نے دیکھا تو اکثر بڑی دکانوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا تھا۔
ملیشیا چھوٹی چھوٹی مسلم سلطنتوں کا مجموعہ ہے۔ اب بھی یہ تمام سلطان موجود ہیں مگر عملاً پارلیمنٹ کے ہاتھ میں سارا اقتدار ہے۔ ۱۹ ویں صدی میں ملیشیا ( ملایا ) برطانوی اقتدار کے ماتحت آگیا۔ برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں کثرت سے چینی اور ہندوستانی مزدور ملیشیا میں درآمد کئے۔ یہ لوگ یہاں اس لئے لائے گئے تھے کہ ٹن کی کانوں اور ربر کے باغوں میں کام کر سکیں جن کے مالک انگریز تھے۔ ٹن اور ربراب بھی ملیشیا کے بنیادی ذرائع آمدنی ہیں۔
چینی دھیرے دھیرے یہاں کی تجارتوں میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ ملیشیا کی اقتصادیات پر قابض ہو گئے۔ ملائی قوم زیادہ تر دیہاتوں میں آباد رہی۔ اور چینی شہروں پر چھاگئے ۔ ملایا نے ۱۹۵۷ میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اس درمیان میں سنگاپور میں چینیوں کی اکثریت ہو چکی تھی۔ ابتداً از سنگاپور فیڈریشن کے ماتحت ملیشیا سے وابستہ رہا ۔ ۱۹۶۵ میں اس نے کامل آزادی حاصل کر لی۔
24 جولائی کو دوپہر بعد ہمیں " انٹرنیشنل ہاؤس " میں لے جایا گیا۔ اور آئندہ یہیں پر کمرہ نمبر ۱۳۰۲ میں قیام رہا ۔ انٹرنیشنل ہاؤس ایک بین الاقوامی ترقیاتی مرکز
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues