(Criticism) ۳ تنقیدی جائزہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵
انہوں نے مثال دی کہ عبرانی زبان سیکڑوں سال سے مردہ زبان تھی۔ اسرائیل بننے کے بعد ایک یہودی عالم اسرائیل آیا۔ وہ اور اس کا خاندان عبرانی زبان بو لتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں اسرائیل کی زبان عبرانی بناؤں گا۔ لوگوں نے اس کو ناقابل عمل سمجھا۔ بہنوں نے اس کو پاگل کہا۔ ایک یہودی عالم نے کہا کہ زبان کی مثال گلاس کی سی ہے۔ گلاس ٹوٹ جائے تو اس کو دوبارہ جوڑ انہیں جاسکتا۔ اسی طرح زبان ایک بار ختم ہو جائے تو اس کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر مذکورہ یہودی نے مجنونانہ طور پر اپنی کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آج عبرانی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ وہ اسرائیل کی سرکاری زبان ہے۔ اس نے ٹوٹے ہوئے گلاس کو دوبارہ جوڑ دیا۔
ایک صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان پیدائشی طور پر بالکل بے علم اور بے خبر ہوتا ہے۔ اس کا سارا علم خارج سے حاصل شدہ علم ہوتا ہے۔ اس کی تائید میں انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی:
واللہ اخرجكم من بطون امهاتكم لا تعلمون شيئاً.. النحل ، ۸ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آدمی کوئی نظریہ قائم کرے اور اس کی تائید میں ایک آیت پیش کر دے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی بات قرآن سے ثابت ہو گئی ہے کیوں قرآن میں اگر مذکورہ بالا آیت ہے تو اسی کے ساتھ اس میں دوسری آیات بھی ہیں مثلاً :
وعلم آدم الاسماء كلھا فطرة الله التي فطر الناس عليھا پہلی آیت کے ظاہری الفاظ سے اگر یہ نکلتا ہے کہ آدمی بے علم حالت میں پیدا ہوتا ہے تو دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو علم اسماء دیا گیا ہے۔ اس کی فطرت میں کچھ باتوں کا علم پیدائشی طور پر پیوست کر دیا گیا ہے۔ قرآن کے نظریہ علم کو سمجھنے کے لئے دونوں قسم کی آیتوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنی پڑے گی۔
پاکستان کے ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے۔ پاکستان میں ہم کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
We are not the sons of soil, so we are treated as second class citizens
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues