(Criticism) ۳ تنقیدی جائزہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۳۴
میں اور اس کے بعد عربی میں شائع ہوئی ۔ ان کے اپنے الفاظ میں، اسلام میرے لئے تبدیلی مذہب نہیں تھا بلکہ وہ میرے لئے تکمیل تھا؛
I accepted Islam not as a rupture but as an accomplishment میں نے مزید پوچھا کہ اسلام کے کس خاص پہلو نے آپ کو متاثر کیا۔ ان کا جواب تھا کہ اس کے ثقافتی (Cultural aspect) پہلو نے۔
لسانیات (Linguistics) کی بحث کے دوران ایک صاحب نے کہا کہ عرب آج قرآن کی زبان نہیں بولتے۔ اس کے جواب میں ایک عرب عالم نے بجا طور پر کہا کہ یہ صحیح ہے کہ عرب ممالک میں کئی لہجے رائج ہیں۔ مگر عوامی زبان میں دوسرے ملکوں میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ جہاں تک علمی عربی کا تعلق ہے اس میں یہ فرق موجود نہیں۔ آج بھی عرب کے اجتماعات میں، ان کی ریڈیو اور ٹیلی وژن کی نشریات میں یا کتابوں میں وہی زبان ہوتی ہے جو قرآن کی زبان ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ کسی زبان کو جاننے کے لئے اس کے اسلوب کو جاننا ضروری ہے۔ مثلاً عربی گرائمر کے ماہرین ہمیشہ یہ لکھتے ہیں کہ صیغہ الامر (افعل) تفید الوجوب۔ امر کا صیغہ وجوب کا معنی رکھتا ہے۔ مگر اس کو مطلق معنی میں لینا درست نہیں۔ اگر اس کو مطلق وجوب کے معنی میں لے لیا جائے تو عجیب صورت پیدا ہو جائے گی۔ مثلاً قرآن میں ہے واذا حللتم فاصطادوا یہاں فاصطاد و امر کا صیغہ ہے ۔ اب اگر اس کو نحوی تعریف کے معنی میں لے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ احرام کھولنے کے بعد ضرور شکار کرو۔ حالاں کہ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ یہاں امر کا صیغہ صرف اباحت کے معنی میں ہے۔ نہ کہ وجوب کے معنی میں ۔ اسی طرح مثلاً اعملوا ما شئتم ۔ وغیرہ۔
ایک صاحب نے بتایا کہ کسی زبان کے بارہ میں رائے قائم کرنے کے لئے اس کو مجموعی طور پر دیکھنا چاہئے نہ کہ کسی جزئی پہلو کی بنا پر رائے قائم کر لی جائے۔ مثلاً اسکیمو کی زبان میں برف کے لئے پچاس الفاظ ہیں۔ جب کہ کسی اور زبان میں برف کے لئے اتنے الفاظ موجود نہیں ۔ مگر یہ معیار درست نہیں۔ اسکیمو چوں کہ برفانی علاقوں میں رہتے ہیں اس لئے برف کے بارہ میں ان کے یہاں مختلف الفاظ ہیں۔ مگر دوسرے اعتبارات سے ان کی زبان انتہائی ابتدائی اور معمولی ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ کوئی کام کرنے والی طاقت اصلاً انسان ہے نہ کہ کوئی نظام۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues