Al-Risala · February 1984 · page 20

عورت کے بارے میں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰

محققین نے پایا ہے کہ ہارمون خود دماغ کے ڈھانچہ کو بدل دیتے ہیں۔ نزا ور مادہ کے دماغ (Brain) میں فرق پایا گیا ہے اور اس کا سبب دونوں کے ہارمون کا فرق ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعہ دونوں صنفوں کے درمیان ناقابل انکار فرق (Undeniable difference) موجود ہے۔ یہ تحقیقات واضح طور پر ثابت کر رہی ہیں کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں فرق ہے اور جب دونوں میں فرق ہے تو دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہونا چاہئے۔ مگر جو لوگ لمبی مدت تک پچھلے خیال کے ساتھ وابستہ رہے ہیں وہ ابھی اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ایک مغربی عالم نے کہا: Whether these physiological differences destine men and women for separate roles in society is another and far more delicate question. کیا یہ عضو یاتی فرق مردوں اور عورتوں کے لئے سماج کے اندر الگ الگ کردار مقدر کرتے ہیں، یہ ایک علیحدہ اور زیادہ پیچیدہ سوال ہے (ریڈز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۱)

اس سے پہلے امریکہ کے ایک اور ہفتہ وار میگزین ٹائم (۲۰ مارچ ۱۹۷۶) نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں سے20 تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیا گیا کہ وہ ”جدید امریکہ میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں۔ انھوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا اور ہر شعبہ کے ماہرین سے مدد لی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پر مذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ راقم الحروف نے اس رپورٹ کا ایک خلاصہ اسی زمانہ میں الجمعیۃ وییکلی (۱ نومبر ۱۹۷۶) میں شائع کیا تھا۔

ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سو سالہ جد وجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ سو سال پہلے تھی۔ مرد ابھی تک جدید امریکہ میں جنس غالب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظریہ کے مطابق، سماجی نہیں ہے بلکہ تمام تر حیاتیاتی اور نفسیاتی ہے۔ مغرب میں آزادی نسواں کی تحریک سو سالہ تجربہ کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے نہ کہ سماج کا ظلم۔ اس لئے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف ایوجینکس کے ذریعہ رحم مادر میں جینٹک کوڈ کو بدل دیا جائے اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں اور مردوں کی برتری ختم ہو کر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے۔ یہ تجویز اتنی عجیب و غریب ہے کہ اس پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page