Al-Risala · February 1984 · page 21

سماجی مظہر نہیں

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

سماجی مظہر نہیں

نیوکلیئر انرجی کو اگر آپ امریکہ کا سماجی مظہر (Social phenomenon) سمجھیں تو آپ کو نیوکلیئر انرجی سے نفرت پیدا ہو جائے گی۔ کیوں کہ ایسی صورت میں نیوکلیئر انرجی کے معنی آپ کے نزدیک یہ ہو جائیں گے کہ خطر ناک بم بناؤ اور شہروں اور آبادیوں کو تباہ کرو۔ اس کے برعکس جب آپ نیوکلیئر انرجی کو قدرتی مظہر (Natural phenomenon) سمجھتے ہیں تو آپ نیوکلیئر انرجی کو الگ دیکھتے ہیں اور امریکہ یا کسی اور جنگی قوم کی طرف سے اس کے استعمال کو الگ۔ اب آپ ایٹم بم کو پسند نہیں کرتے مگر جہاں تک ”ایٹمی“ انرجی کا تعلق ہے اس سے آپ کی دل چسپی بدستور باقی رہتی ہے۔

نیوکلیئر انرجی کے معاملہ میں کوئی شخص یہ غلطی نہیں کرتا کہ اس کو کسی جنگی قوم کا سماجی مظہر (Social phenomenon) سمجھے۔ مگر مذہب کا مطالعہ کرتے وقت کچھ لوگ یہی غلطی کرتے ہیں۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی صداقت (Divine truth) ہے، مگر علم الانسان (Anthropology) میں مذہب کا مطالعہ اکثر ایک سماجی مظہر کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے مذہب کا تصور لوگوں کی نظر میں غلط ہو کر رہ گیا ہے۔ اس طرز مطالعہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مطالعہ کرنے والے کے ذہن میں نظریہ اور عمل کا فرق باقی نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر مسلمان قومیں جو کچھ عملاً کر رہی ہیں اسی کو آج کل کے بہت سے لوگوں نے اسلام سمجھ لیا ہے۔ یہی وہ طرز مطالعہ ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کا خنجر (Dagger of Islam) اور محمد کی تلوار (Sword of Muhammad) جیسی کتابوں کو جنم دیا ہے۔ ان مصنفین نے یہ دیکھا کہ مسلمان خنجر اور تلوار کا استعمال کر رہے ہیں تو انہوں نے اپنے مخصوص تصور مذہب کی وجہ سے یہ سمجھ لیا کہ اسلام نام ہے تلوار اور خنجر کا۔

اس کے برعکس اسلام کو جب آپ ایک صداقت سمجھیں جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور قرآن اور سنت کے متن میں محفوظ ہے تو اسلام آپ کی نظر میں سماجی مظہر کا نام نہیں رہتا بلکہ ایک نظریہ کا نام بن جاتا ہے۔ اب آپ اسلام کو قرآن اور سنت کے متن کی روشنی میں دیکھتے ہیں نہ کہ مسلمانوں کے عمل کی روشنی میں۔

اسلام کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مسلمانوں سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ اس کو سماجی مظہر سمجھنے کے بجائے ایک خدائی نظریہ سمجھا جائے۔ ایسی ہی صورت میں اسلام کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ انصاف کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page