ہمارا المیہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۷
ہمارا المیہ
نیوٹن ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوا۔ وہ پورے معنوں میں ایک مذہبی آدمی تھا۔ حتیٰ کہ وہ چرچ بھی جاتا تھا۔ مگر دنیا کے سامنے وہ ایک سائنس داں کی حیثیت سے آیا نہ کہ ایک مذہبی انسان کی حیثیت سے شمسی نظام کے بارہ میں اس نے جو تحقیقات کیں انہیں کو مدون کرنے میں اس نے اپنی ساری عمر لگادی اور اسی حیثیت سے وہ دنیا کے سامنے متعارف ہوا۔
یہی اکثر سائنس دانوں کا حال ہے۔ موجودہ زمانہ میں مغربی ملکوں میں جو بڑے بڑے علمائے سائنس اٹھے ان کی اکثریت اپنی ذاتی زندگی میں مذہبی تھی۔ وہ زیادہ تر عیسائی یا یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے حالات بتاتے ہیں کہ اپنے پیدائشی مذہب سے ان کا تعلق آخر وقت تک کسی نہ کسی طرح باقی تھا۔ مگر یہ سائنس داں دنیا کے سامنے جو چیز لے کر ابھرے وہ ان کا آبائی مذہب نہ تھا بلکہ سائنس تھی۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی سائنسی تحقیقات میں گذار دی اور انھیں تحقیقات کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے پرجوش طور پر کام کرتے رہے۔
اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذہب ان کے لئے ایک آبائی وراثت تھی۔ جب کہ سائنس ان کے لئے ایک دریافت کی حیثیت رکھتی تھی۔ آبائی وراثت کے معاملہ میں آدمی کبھی پرجوش نہیں ہوسکتا۔ اس کے برعکس جو چیز اسے بطور دریافت ملتی ہے وہ اس کی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا کہ دنیا کے سامنے اسے پیش کرے۔
یہ ایک خارجی مثال ہے جس میں خود ملت اسلام کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر کثرت سے بڑے بڑے لیڈر پیدا ہوئے۔ انھوں نے بڑے بڑے کام بھی کئے۔ مگر ان میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے اقوام عالم کے سامنے اسلام کا پیغام پہنچانے کو کام سمجھا ہو اور اسی کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی ہو۔
اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام ان کو بطور وراثت ملا تھا نہ کہ بطور دریافت۔ اگر اسلام ان کی " دریافت " ہوتا تو انھیں اس کے بغیر چین نہ آتا کہ وہ اس کو سارے عالم تک پہنچادیں۔ وہ اسی کے کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے۔ دنیا والوں سے کہنے کے لئے ان کے پاس سب سے بڑی بات یہی ہوتی۔ مگر جو اسلام بطور قومی وراثت ملا ہو وہ کبھی آدمی کے اندر اس قسم کا انقلاب پیدا نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues