اسراف کا نتیجہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۸
اسراف کا نتیجہ
مصر کا حکمراں خدیو اسماعیل پاشا (۱۸۹۵ ۔ ۱۸۳) اعلیٰ صلاحیت کا مالک تھا۔ اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ مصر کو عملی طور پر ترکی کی عثمانی خلافت سے آزاد کر لیا۔ بحر احمر اور بحر روم کو ملانے کے لئے نہر سوئز نکالنے کا منصوبہ (۱۸۶۶) اسی کے زمانہ میں بنا۔ اسماعیل پاشا نے اس منصوبہ کی اہمیت کو سمجھا اور اس کو فوراً منظوری دے دی۔
خدیو اسماعیل پاشا عوام کو خوش کرنا بھی جانتا تھا۔ چنانچہ وہ مصر کا پہلا حکمراں ہے جس نے ملک میں ۱۸۶۶ میں منتخب اسمبلی کے طریقہ کورائج کیا۔ اس کی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو اس کی اعلیٰ صلاحیت کو ثابت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود خدیو اسماعیل پاشا کا آخری انجام یہ ہوا کہ وہ نالائق حکمراں قرار پایا۔ اور اپنے بیٹے توفیق پاشا کے حق میں اس کو تخت و تاج چھوڑنا پڑا۔
اس ناکامی کی وجہ خدیو اسماعیل پاشا کی ایک غلطی تھی۔ اور وہ اس کا حد سے بڑھا ہوا اسراف تھا۔ مصر میں وہ ایک فضول خرچ حکمراں کی حیثیت سے مشہور تھا۔ اس کے علاوہ جب وہ مصر سے باہر ترکی فرانس وغیرہ، جاتا تو ہاں وہ اور بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ دولت خرچ کرتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے زمانہ میں مصر کے قرضہ کی مقدار ۱۱۰ ملین پونڈ تک پہنچ گئی تھی۔
خدیو اسماعیل پاشا کی فضول خرچیوں کو پورا کرنے کے لئے مصر کا خزانہ ناکافی تھا۔ چنانچہ اس نے ملک کے بیت المال، خیراتی اوقاف اور یتیموں اور بیواؤں کے فنڈ سے بھی قرض لے رکھا تھا جو تقریباً ۷۳۰۰۰ پونڈ کے برابر تھا۔
ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے اس نے مصری عوام کے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ اس کے زمانہ میں تقریباً چالیس قسم کے ٹیکس ملک میں نافذ تھے۔ عبدالرحمن الرافعی کی کتاب ” اسماعیل “ اور یوسف نحاس کی کتاب ” الفلاح “ میں اس کے ٹیکسوں کی جو تفصیل درج ہے وہ انتہائی دہشت ناک ہے۔ مثلاً قدیم مصری کسان ایک لباس پہنتے تھے جس کو زعبوط کہا جاتا تھا۔ اسماعیل پاشا کی حکومت نے اس کپڑے پر بھی ٹیکس لگا دیا۔
ایک زعبوط پر ایک ریال ٹیکس تھا۔ ادائیگی کے وقت زعبوط کی آستین پر ایک خاص قسم کی مہر ڈال دی جاتی تھی جو اس بات کی علامت تھی کہ اس کا ٹیکس ادا ہو چکا ہے ۔ بدقسمتی یہ تھی کہ یہ مہر پانی لگنے سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues