روحانی فاقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴
لباس تھا اور گلے کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈھول ۔ نوجوان سے اس کا وطن پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کناڈا کا رہنے والا ہے۔ مزید سوالات کے ران اس نے کہا : کناڈا میں میرے پاس ذاتی مکان اور ذاتی کار تھی۔ ایک اچھی بیوی تھی۔ معقول روزگار رکھتا۔ یہاں میرے پاس کوئی مکان نہیں جہاں مجھے نیند آتی ہے میں سو جاتا ہوں ، خواہ وہ ایک فٹ پاتھ ہو۔ میرے پاس اپنی سواری نہیں ، روزگار نہیں۔ میری بیوی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔
"یہاں آپ کو جب اتنی تکلیف ہے تو پھر آپ نے کناڈا کو چھوڑ کر انڈیا آنا کیوں پسند کیا " اس کے جواب میں مغربی نوجوان نے نہایت سنجیدگی سے رک رک کر یہ الفاظ کہے: وہاں میں جسمانی طور پر مطمئن تھا، یہاں میں روحانی طور پر مطمئن ہوں :
There I was comfortable physically, here I am comfortable spiritually. جدید تہذیب نے انسان کو بے شمار مادی چیزیں دیں۔ مگر یہ چیزیں اس کے وجود کے صرف دو نصف حصہ کو تسکین دے سکتی تھیں۔ بقیہ نصف کے لیے ان میں کوئی تسکین موجود نہیں تھی۔ جدید مشینی تہذیب کا یہی وہ تضاد ہے جس نے وہ تمام مظاہر پیدا کئے جن کو موجودہ زمانہ میں پی ازم، بورڈم، ان رسٹ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اور جس کو پیس آف مائنڈ کو کھونا کہتے ہیں۔ یہاں مشہور ماہر نفسیات کارل ینگ (1875-1961) (1961 - کا تجربہ قابل نقل ہے۔ انھوں نے کہا :
" پچھلے تیس برسوں میں روئے زمین کے تمام تمدن ممالک کے لوگوں نے مجھ سے اپنے نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں ، مشورہ حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا ہے۔ میرے مریضوں میں زندگی کے نصف آخر میں پہنچنے والے تمام لوگ جو کہ ۳۵ سال کے بعد کہی جا سکتی ہے، کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کا مسئلہ اپنے آخری تجزیہ میں زندگی کا مذہبی نقطہ نظر پانے کے سوا کچھ اور ہو۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص کی بیماری یہ تھی کہ اس نے وہ چیز کھو دی تھی جو کہ موجودہ مذاہب ہر دور میں اپنے پیروؤں کو دیتے رہے ہیں۔ اور ان مریضوں میں سے کوئی بھی حقیقتاً اس وقت تک شفا یاب نہ ہو سکا جب تک اس نے اپنا مذہبی تصور دوبارہ نہیں پالیا؛
Quoted by C. A. Coulson, Science & Christian Belief, p. 110 علیحدگی کا عمل قدیم زمانہ میں انسانی ذہن پر فلسفہ کا غلبہ تھا۔ فلسفہ چیزوں کو مکمل طور پر سمجھنے پر زور دیتا تھا۔ وہ اشیاء کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔ تاہم پانچ ہزار سالہ کوشش کے باوجود فلسفہ کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues