روحانی فاقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳
اسلام اور عصر حاضر حصہ اول موجودہ زمانہ کے تمام انسانی مسائل ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک چیز کا نتیجہ ہیں _ خدا اور انسان کے درمیان جدائی۔ دور جدید نے انسان کو مادی ساز وسامان تو بہت دئے مگر اس کے خدا کو اس سے چھین لیا۔ اس طرح اس نے جدید انسان کے جسم کے لئے خوراک کا انتظام کیا اور روح کو فاقہ کی حالت میں چھوڑ دیا۔ روح کو اگر جسم سے کامل طور پر جدا کر دیں تو جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور اگر ایسا کریں کہ روح کی جو غذا ہے وہ اسے دینا بند کر دیں تو روح فاقہ کی حالت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ روح کے فاقہ سے روح پر وہ سب کچھ گزرنے لگتا ہے جو جسم کے فاقہ سے جسم پر گزرتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے: الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرعد ۲۸)۔ یہی بات حضرت مسیح نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان فرمائی: آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے (متی ۴: ۴) اسلام کے پاس آج کے انسان کو دینے کے لئے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ ہی خدا کا عقیدہ ہے اگرچہ تمام مذاہب اصلا خدا ہی کے مبلغ تھے۔ مگر بعد کے زمانہ میں وہ خدا کے تصور کو اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رکھ سکے۔ کسی نے خدا کو اپنا قومی خدا بنا لیا۔ کسی نے اس میں شرک کی ملاوٹ کر دی۔ کسی نے خدا کو مجرد فلسفیانہ تخیل بنا کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ مذاہب اس قابل نہ رہے کہ خدا کو اس کی واقعی حیثیت میں لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں (یونس (۱۹) اب صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس کے یہاں خدا کا تصور اپنی صحیح اور کامل صورت میں محفوظ ہے۔ اس لئے جدید انسان کو اس کا مطلوب خدا صرف اسلام کے یہاں مل سکتا ہے (آل عمران ۸۵)
روحانی فاقہ
جدید تہذیب نے انسان کو خدا سے محروم کر کے اس کو روحانی فاقہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی روحانی فاقہ کا نتیجہ ہے کہ موجودہ جاپان کے نوجوان، صنعتی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر یہ کہنے لگے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک مرچنٹ کلچر ہے اور صرف مرچنٹ کلچر انسان کے لئے کافی نہیں، مغربی سوسائٹی کا وہ مظہر جس کو ہپی ازم کہتے ہیں وہ بھی اسی فاقہ زدگی کی ایک مثال ہے۔
ایک ہپی نوجوان دہلی کی سڑک پر پیدل چل رہا تھا۔ اس کے جسم پر نہایت معمولی ہندستانی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues