Al-Risala · February 1984 · page 27

مسیحیت میں تبدیلی

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷

ارسطو کا مرکزیت زمین کا نظریہ (Geocentric theory) عیسائیوں میں بہت مقبول ہوا۔ اس نظریہ میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی۔ اور چوں کہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا اس لئے انھیں یہ بات زیادہ صحیح نظر آئی کہ وہی کره نظام شمسی کا مرکز ہے جہاں خداوند مسیح پیدا ہوئے ہوں۔ کوپرنیکس (۱۵۲۳ - ۱۷۳۱) نے جب مرکزیت آفتاب (Heliocentric Theory) کا اصول پیش کیا تو یورپ میں عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے عقیدہ کے تحفظ کے لئے کوپرنیکس کی زبان بند کر دی ۔ خداوند کی جنم بھومی کو تابع(Satellite)قرار (Satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جس کو مسیحیت کبھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔

گر یہ مسئلہ بگڑی ہوئی مسیحیت کا تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھنے لگیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پاکر اس کو قبول کرلیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے۔ پروفیسر برنس نے لکھا ہے:

The Saracens were brilliant astronomers, mathmeticians, phy- sicists, chemists, and physicians... despite their reverance for Aristotle, they did not hesitate to criticize his notion of a universe of concentric spheres with the earth at the centre, and they admitted the possibility that the earth rotates on its axis and revolves around the sun.- Edward Mc Nall Burns, Western Civilizations, W.W. Narton & Company Inc. NY, p. 264 مسلمان فلکیات ریاضی طبیعیات، کیمیا اور طب میں نہایت باکمال عالم تھے ۔ ارسطو کے احترام کے باوجود انھوں نے اس میں تامل نہیں کیا کہ وہ اس کے اس نظریہ پر تنقید کریں کہ زمین مرکز ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ انھوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گھومتی ہوئی سورج کے گرد گردش کر رہی ہے۔

مسیحیت میں تبدیلی

مسیحیت جب شام اور فلسطین سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو وہاں یونانی نظریات کا غلبہ تھا۔ مسیحی علماء نے یہاں تبلیغی مصلحت کی خاطر وہ عمل کیا جس کو قرآن میں مضاهاة (التوبہ ۳۰) کہا گیا ہے۔ انھوں نے مسیحیت کو لوگوں کے لئے قابل قبول بنانے کی خاطر اس کو مروجہ افکار کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس زمانہ میں زیوس (Zeus) یونانیوں کا سب سے بڑا دیوتا تھا جس کو وہ خدا کا اکلوتا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی حضرت مسیح کو خدا کا اکلوتا بیٹا کہنے لگے۔ اسی طرح اس زمانہ کے جغرافی اور طبیعی نظریات

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page