مسیحیت میں تبدیلی
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸
کو بھی انھوں نے کتاب مقدس کی تفسیر کے طور پر لے لیا اور اس کو اپنی مذہبی کتابوں میں اس طرح درج کر لیا جیسے کہ وہ بھی آسمان سے اترے ہوں۔
مسیحیوں کی خوش قسمتی سے اسی زمانہ میں رومی بادشاہ قسطنطین نے مسیحیت قبول کر لی۔ وہ ۳۰۶ء سے لے کر ۳۳۷ء تک عظیم رومی سلطنت کا شہنشاہ رہا۔ اس نے اپنے شاہی اثرات کے تحت تمام یورپ میں مسیحیت پھیلادی۔ یہ لوگ جنھوں نے مسیحیت قبول کی انھوں نے کسی ذہنی اور فکری انقلاب کے ذریعہ مسیحیت نہیں قبول کی تھی بلکہ صرف حکومت کے زور پر قبول کی تھی۔ ان کا حقیقی ذہن اب بھی وہی رہا جو پہلے تھا۔ چنانچہ انھوں نے مسیحیت کو اپنے سابقہ خیالات کے مطابق ڈھالنا شروع کیا۔ اس طرح بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسیحیت کے نام سے ایک ایسا مذہب وجود میں آ گیا جس کا حضرت مسیح کی انجیل سے بہت کم تعلق تھا۔ یہ گویا رومی اور یونانی مذہب تھا جس کو مسیحیت کا نام دے کر اختیار کر لیا گیا۔ اڈولف ہارمک نے صحیح لکھا ہے کہ چوتھی صدی تک انجیل یونانی فلسفہ کے رنگ میں رنگ چکی تھی: By the fourth century the living gospel had been masked in Greek philosophy مذہب میں جب کوئی چیز عرصہ تک جاری رہے تو وہ مقدس بن جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بدلی ہوئی مسیحیت چند سو سال کے بعد مقدس بن گئی۔ جو چیز ابتدا ء مصلحت کے تحت اختیار کی گئی تھی وہ مسیحیت کا حقیقی حصہ سمجھی جانے لگی۔ حتی کہ یونانیوں کے بے اصل علوم مسیحی علوم کہے جانے لگے۔ مثلا مسیحی جغرافیہ (Topography Christian) وغیرہ۔
Adalf Harmack, Outline of the History of Dogma. مذہب اور زندگی کی علیحدگی مسلمانوں کے زوال کے بعد جب یورپ میں جدید تحقیق کا کام شروع ہوا تو مسیحی علوم کی غلطی واضح ہونے لگی۔ جدید علماء نے جب فلکیات اور جغرافیہ اور طبیعیات سے متعلق اپنی تحقیقات شائع کیں تو مذہبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مسیحی چرچ نے اول آن علماء کی بے دینی کے فتوے دئے۔ جب اس سے لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوئیں تو پوپ کے حکم خاص سے احتساب کی عدالت (Inquisition) قائم ہوئی۔ اندازہ ہے کہ تقریباً تیس لاکھ آدمیوں کو مسیحی احتساب کی عدالت میں کھڑا ہونا پڑا۔ ان کو سخت سزائیں دی گئیں۔ تقریباً ۳۰ ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان سزا یافتگان میں گلیلیو اور برونو (Brunoe) جیسے لوگ بھی شامل تھے۔
اس کے نتیجہ میں چرچ اور سائنس کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو بالآخر علم اور مذہب کی جنگ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues