مذہب ایک رسمی ضمیمہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹
بن گئی۔ مفروضہ مقدس عقائد پر بے جا اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں یہ خیال عام ہو گیا کہ علم اور مذہب دونوں ایک دوسرے کے ضد ہیں۔ ایک کی ترقی دوسرے کے لئے موت کا حکم رکھتی ہے۔ قرآن کے مطابق علم اللہ سے قریب کرنے والی چیز ہے (فاطر (۲۸) مگر بے جی تحریفات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم لوگوں کو اللہ سے دور کرنے والا بن گیا۔
علم اور مذہب کا یہ تصادم تقریباً دو سو برس تک جاری رہا۔ یہاں تک ۱۸۵۹ء میں چارلس ڈارون نے اپنی کتاب (Origin of Species) شائع کی۔ چرچ نے اس کی زبردست مخالفت کی۔ مگر اب چرچ کا زور گھٹ چکا تھا۔ بالآخر دونوں کے درمیان (Secularism) کی صورت میں سمجھوتہ ہو گیا۔ مذہب اور علم کے دائرے ایک دوسرے سے الگ کر دئے گئے ۔ مذہب کو شخصی دائرہ کی چیز قرار دے کر بقیہ تمام شعبوں میں انسان کے لئے آزادی کا حق تسلیم کر لیا گیا کہ وہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنی تحقیق چلائے۔
مذہب ایک رسمی ضمیمہ
تاہم یہ علیحدگی محض علم اور مذہب کی علیحدگی نہ تھی بلکہ یہ زندگی اور مذہب کی علیحدگی تھی۔ چرچ نے یہ نہیں کیا کہ جن غیر آسمانی افکار و خیالات کو اس نے اپنے مذہب میں شامل کیا تھا ان کو وہ اپنے مذہب سے خارج کر دے۔ ان کی ساری نامعقولیت کے باوجود وہ ان کو اپنے مذہب کا جز بنائے رہا۔ ایسی حالت میں مذہب کو شخصی دائرہ میں جگہ ملنا بھی نا ممکن تھا۔ کیوں کہ آدمی ایک سوچنے سمجھنے والی مخلوق ہے۔ جس چیز کی معنویت آدمی کے اوپر واضح نہ ہو اس کو وہ شخصی طور پر بھی اپنی زندگی کا جز نہیں بنا سکتا۔ اس تقسیم کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ مذہب زندگی کا صرف ایک رسمی ضمیمہ بن جائے، وہ کسی کی زندگی میں حقیقی طور پر شامل نہ ہو سکے۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے (الاحزاب ۴) یعنی یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے کہ دو غیر ہم آہنگ فکریان قوت کے ساتھ آدمی کے ذہن میں جمع ہوں۔ جو چیز علمی اور فکری معیار پر پوری نہ اترے وہ کسی شخص کی زندگی کا ایک غیر مؤثر ضمیمہ تو بن سکتی ہے مگر وہ ایک زندہ عنصر کی حیثیت سے کبھی اس کی زندگی میں جگہ نہیں پا سکتی۔ مذہب کو شخصی طور باقی رکھنے کے لئے بھی اس کا مطابق عقل ہونا ضروری ہے۔ جو مذہب عقل کے مطابق نہ ہو وہ شخصی سطح پر بھی اپنے وجود کو باقی رکھنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ ایسا مذہب کسی آدمی کے ہاتھ میں بس " چھنگلیا ، ‘‘بن کر رہ جائے گا۔ وہ اس کے ہاتھ کا " انگوٹھا نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues