Monthly Arabia, London, July 1983
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
اپنے بندوں سے باتیں کرتا ہے اور اس کی روح سے اتصال قائم کرتا ہے۔ اسلام میں ہر آدمی براہ راست اپنا ربط خدا سے قائم کر سکتا ہے۔
Monthly Arabia, London, July 1983
انسان کی فطرت ایک ایسا خدا چاہتی ہے جس سے وہ براہ راست مربوط ہو سکے۔ مگر موجودہ مذاہب اس کو ایسا خدا دیتے ہیں جس سے وہ صرف بالواسطہ طور پر مربوط ہو سکتا ہے۔ تمام مذاہب میں صرف اسلام ہے جو انسان کو براہ راست خدا سے ملاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام آج بھی اپنی اصل الہامی شکل میں باقی ہے۔ جب کہ دوسرے مذاہب انسانی ملاوٹ کی وجہ سے اپنی اصل الہامی صورت کو کھو چکے ہیں۔ تمام مذاہب اصلاً ایک تھے۔ مگر اب ان میں انسانی آمیزش کی وجہ سے فرق ہو گیا ہے (یونس 19) کوئی مذہب ایسا ہے جو کی خدا پیش کر رہا ہے۔ مگر یہ انسانی طلب کے سراسر غیر مطابق ہے۔ کیوں کہ خدا کی طلب ایک ایسی ہستی کی طلب ہے جس کو آدمی اپنا مرکز توجہ بنا سکے۔ اور مرکز تو جہ ہمیشہ کوئی ایک چیز ہوتی ہے نہ کہ کئی چیز۔ کوئی مذہب کسی انسان کو خدا کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ مگر انسان کو جس خدا کی تلاش ہے وہ وہی خدا ہو سکتا ہے جو اس کی اپنی ذات سے برتر ہو، ایسا خدا انسان کا معبود نہیں بن سکتا جو خود اس کے اپنے جیسا ہو۔ کوئی مذہب خدا کو محض ایک روح مجرد (Vague Spirit) کی صورت میں پیش کر رہا ہے۔ مگر انسان ایک دیکھنے اور سننے اور بولنے والے خدا کو چاہتا ہے۔ ایتھر یا قوت کشش جیسی کوئی مجرد چیز اس کی مانگ کو پورا نہیں کر سکتی۔
مشہور مفکر آرتھر کوئسکر کو عزت اور مرتبہ حاصل تھا۔ اس کے پاس تقریباً چار لاکھ پونڈ نقد موجود تھے۔ مگر تین شادیوں کے باوجود وہ بے اولاد تھا۔ نیز ریشہ اور خون کے کینسر نے اس کو سخت پریشان کر رکھا تھا۔ چنانچہ اس نے مایوسی کے عالم میں مارچ ۱۹۸۳ء میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی کر لی۔ اس وقت اس کی عمر77 سال تھی۔
اسی طرح ہر روز دنیا بھر میں سیکڑوں آدمی خود کشی کرتے رہتے ہیں۔ خود کشی کے ان واقعات کی وجہ ہوتی ہے موجودہ دنیا میں اپنی آرزوؤں کی تکمیل سے مایوسی۔ مگر تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا پر سچا عقیدہ رکھنے والوں نے کبھی خود کشی کی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ آدمی کو موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں امید عطا کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا کی اسکیم میں زندگی صرف موجودہ دنیا کی زندگی نہیں ہے۔ وہ موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ خدا پر یقین رکھنے والے کو اگر دنیا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ آئندہ زندگی کے ساتھ لو لگا لیتا ہے۔ وہ انسانوں کی دنیا سے مایوس ہو کر خدا کی دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues