خدا کا تصور مختلف مذاہب میں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲
نہیں کر پاتا۔ وہ جس کائنات میں ہے وہ اتنی زیادہ بڑی اور وسیع ہے کہ اس کے مقابلے میں انسان اپنے آپ کو حد درجہ حقیر پاتا ہے۔ کوئی شخص علمی میدان میں تحقیق کر رہا ہو تو اس پر کھلتا ہے کہ حقائق اس سے زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہیں کہ اس کی محدود عقل ان کا احاطہ کر سکے۔ ایک آدمی جب کوئی کام کرتا ہے تو اس کو تجربہ ہوتا ہے کہ اکثر اوقات لامعلوم اسباب (Unknown Factors) حائل ہو کر اس کے کام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی خوش قسمت آدمی ان تلخ تجربات سے بچ جائے تو موت سے وہ اپنے آپ کو نہیں بچا پاتا۔ موت کا حملہ بالکل ایک طرفہ ہوتا ہے۔ موت آدمی کے گھروندہ کو اس طرح تہس نہس کر دیتی ہے جیسے ایک سخت زلزلہ مسیحی پر رونق شہر کو اچانک طلبہ کا ڈھیر بنا دے۔
یہ احساس عجز ہر آدمی کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہ چیز اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایک ایسا سہارا پکڑے جو اس سے زیادہ طاقت ور ہو۔ جو اس کے لئے اس کے عجز کی تلافی بن جائے۔ یہی احساس بے چارگی آدمی کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ آدمی کو ایک ایسا خدا چاہئے جس کے سامنے وہ اپنے جذبات شکر کو انڈیل سکے جس کے اوپر وہ اپنے معاملات میں بھروسہ کرے۔ جس کا عقیدہ اس کے لئے اس وقت بھی سہارا بنا رہے جب کہ بظاہر کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ جس سے وہ یہ امید رکھے کہ وہ اس کی ہر بربادی کے بعد اس کو آباد کرے گا۔ اور ہر مشکل کو اس سے رفع فرمائے گا۔ اسلام کا خدا ایسی ہی ایک ہستی ہے جو پورے معنوں میں حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ کامل بھی۔
خدا کا تصور مختلف مذاہب میں
آدمی کا یہ احساس عجز اس وقت تک تسکین نہیں پاتا جب تک اس کو "خدا" فراہم نہ کر دیا جائے۔ بظاہر ہر مذہب انسان کو یہی خدا فراہم کر رہا ہے۔ مگر اسلام کے سوا جو مذاہب ہیں وہ سب تحریف اور الحاق اور ضياع کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ چنانچہ خدا کا تصور ان کے یہاں اپنی صحیح شکل میں باقی نہیں رہا ہے۔ اس لئے وہ خدا تو پیش کرتے ہیں مگر وہ ایسا خدا پیش کرتے ہیں جو واقعہ کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو پوری تسکین نہ دے سکے۔
کیٹ اسٹیونس (Cat Stevens) بین الاقوامی شہرت رکھنے والے پاپ موسیقی کے ماہر تھے۔ انھوں نے ۱۹۷۷ میں کسی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا موجودہ نام یوسف اسلام ہے۔ انھوں نے اپنے قبول اسلام کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ مسیحی چرچ ہم کو خدا پر عقیدہ رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ مگر خدا سے مربوط ہونے کا مسیحی طریقہ صرف حضرت عیسیٰ کی معرفت ممکن ہے۔ کوئی آدمی خدا سے براہ راست ربط قائم نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کی اہمیت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ایسے خدا سے تعارف کراتا ہے جو براہ راست
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues