اجتماعی مسائل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۹
ہے۔ اب ایسی حالات میں اگر ایک فریق اپنے حصہ کی غلطی مان لے تو دوسرا فریق بھی با آسانی اپنی غلطی کو ماننے پر راضی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک فریق اپنے حصہ کی غلطی نہ مانے تو دوسرا فریق بھی اپنے حصہ کی غلطی ماننے پر راضی نہیں ہوتا۔ اس طرح جھگڑا بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔
ایسے تمام معاملات میں اصل مشکل یہ ہوتی ہے کہ جھگڑا پیدا ہونے ہی دونوں فریق اس کو اپنی عزت (Prestige) کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ہر فریق بخوبی جانتا ہے کہ غلطی کا ایک جزو اس کی طرف بھی ہے۔ مگر یہ خیال اس کو اعتراف سے روکے رہتا ہے کہ اگر میں نے اپنی غلطی مان لی تو میری بے عزتی ہو جائے گی۔ اس اندیشہ کی بنا پر دونوں میں سے کوئی فریق اپنی غلطی کے اعتراف کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
لیکن اگر دونوں میں سے کوئی ایک ایسا کرے کہ وہ پہل کرکے اپنے حصہ کی غلطی مان لے تو صورت حال فوراً بدل جائے گی۔ جو معاملہ پہلے عزت کا معاملہ تھا وہ اب توازن کا معاملہ بن جائے گا۔ اس کے بعد دوسرے فریق کے لئے اعتراف کرنا اپنے کو نیچا کرنے کے ہم معنی نہیں رہتا بلکہ وہی چیز کرنا بن جاتا ہے جو دوسرا فریق عملاً کر چکا ہے۔ گویا ایک فریق کا اعتراف دوسرے فریق کے اعتراف کو پیشگی طور پر متوازن کر دیتا ہے۔ یہی حقیقت پسندی زندگی کی اصلاح کا سب سے بڑا راز ہے۔ اور یہ حقیقت پسندی صرف خدا پرستی سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا پر ایمان در اصل خدا کو کبیر مان کر اپنے آپ کو صغیر کے مقام پر رکھنا ہے۔ یہ ایمان اس حال میں وقوع میں آتا ہے کہ خدا اپنی کبریائی کو منوانے کے لئے ہمارے سامنے موجود نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے یہ کسی انسان کے لئے سب سے بڑی حقیقت پسندی ہے۔ اب جو شخص اس پر راضی ہو جائے کہ ساری بڑائی خدا کی طرف ہے اور ساری چھوٹائی میری طرف، وہ گویا اپنی ’’کو تاہی‘‘ کو آخری حد تک تسلیم کر چکا ہے۔ اور جو شخص اپنی کوتاہی کو آخری حد تک تسلیم کر لے وہ کیسے کسی بات کو عزت کا مسئلہ بنائے گا۔ ایسے آدمی کے لئے ہر دوسرا اعتراف اس چیز کو چھوٹی سطح پر ماننا ہے جس کو وہ زیادہ بڑی اور آخری سطح پر پہلے ہی مان چکا ہے۔ قدرت کا نظام توازن کے اصول پر قائم ہے۔ توازن کو قائم رکھنے میں قدرت جن تدبیروں سے کام لیتی ہے ان میں سے ایک تحویل (Diversion) ہے یعنی قوت کی فاضل مقدار کو دوسری طرف موڑ دینا۔ بارش کے موسم میں جو پانی برستا ہے اس کی ساری مقدار اگر کھیتوں اور آبادیوں میں رہ جائے تو زبردست نقصان ہو۔ ایسے موقع پر قدرت یہ کرتی ہے کہ پانی کی ضروری مقدار کھیتوں اور آبادیوں کو دے کر بقیہ تمام پانی دریاؤں کی طرف محول (Divert) کر دیتی ہے۔
اس اصول تحویل کو انسان نے مصنوعی طور پر بند (Dam) کی صورت میں اختیار کیا ہے۔ بند کا مقصد
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues