اجتماعی مسائل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰
یہ ہے کہ دریا کے پانی کے بے روک ٹوک بہاؤ پر کنٹرول قائم کیا جائے۔ جب بھی ایسا ہو کہ پانی حد سے بڑھتا ہوا نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کر دیا جائے تاکہ وہ دریا میں داخل ہو کر طغیانی نہ لا سکے بلکہ طعید سے بنے ہوئے عظیم گڑھے میں جا کر گر جائے جس کو عام طور پر ذخیرہ آب (Reservoir) کہا جاتا ہے۔ یہی اصول مشینوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً اسٹیم انجن میں جب اسٹیم کی مقدار متعینہ حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اسٹیم کے رخ کو پھیر کر اسے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کی اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ مختلف انسان جب مل جل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔ اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف اور عناد اور مقابلہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ انسانی اجتماعیت یا انسانی معاشرہ کا درست طور پر کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔
ان حالات میں انسان کے لیے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے جذبات کے محض اضافے کو موڑا جا سکے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ زندگی میں یہی کام کرتا ہے۔ وہ جماعت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان کی جانب سے موڑ کر خدا کی طرف کر دیتا ہے۔
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے سگے بھائی بن یامین کے ساتھ بھی اسی قسم کا حادثہ پیش آیا۔ ان ناخوشگوار واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔ آپ اگر اپنے ان جذبات کا نشانہ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبر دست انتشار اور اختلاف پیدا ہوتا۔ مگر آپ نے اپنے جذبات کے ہجوم کو خدا کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا : انما اشکو ابشی وحزنی الى الله۔ اسی طرح عمر فاروق رض نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسلامی جنرل خالد بن الولید کو معزول کر دیا۔ یہ خالد بن الولید جیسے شخص کے لئے زبر دست دھکا تھا۔ مگر انہوں نے اپنے تمام جذبات کو یہ کہہ کر خدا کی طرف موڑ دیا : انی لا اقاتل فى سبيل عمر ولكن اقاتل فى سبيل راب (عمر) میں عمر کے راستہ میں نہیں لڑتا بلکہ خدا کے راستہ میں لڑتا ہوں) یہ کسی انسانی معاشرہ کے لئے عقیدہ آخرت کی بہت بڑی دین ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی شکایات کی تلافی کے لئے خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس نے جو کچھ انسان سے نہیں پایا، اس کو وہ خدا سے پانے کی امید کر لیتا ہے۔ اس طرح خدا پرست آدمی کے منفی جذبات اپنے ہم جنسوں کی طرف رخ کرنے کے بجائے خدا کی طرف محول (Divert) ہوتے رہتے ہیں۔ جو پانی سیلاب بن کر انسانی آبادی کو نقصان ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues