اسراف کا نتیجہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۹
چھوٹ جاتی تھی ۔ اس لئے کسان اپنے زعبو اکو دھوتے ہوئے اس کے مہر کے حصہ کو چھوڑ دیتا۔ کیوں کہ معلوم تھا کہ ٹیکس وصول کرنے والے جو ہر وقت بازاروں میں گھومتے رہتے تھے مہر کا نشان مٹتے ہی اس کے اوپر دوسرا ریال لگا دیں گے۔ ٹیکسوں کی اس کثرت کے باوجود یہ حال تھا کہ دو سال تک سرکاری ملازموں اور فوجیوں کی تنخواہیں نہ دی جا سکیں ۔
مگر قرض کی ادائیگی کے لیے یہ سارے ٹیکس بھی نا کافی ثابت ہوئے ۔ کیوں کہ اسماعیل پاشا کا اسراف بھی اسی کے ساتھ برابر جاری تھا۔ آخروہ اندوہناک واقعہ ہوا جس نے مصر کی تاریخ بدل ڈالی۔ اسماعیل پاشا نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے نہر سوئز میں حکومت مصر کے حصہ کو ۱۸۷۹ میں انگلستان کے ہاتھ فروخت کر دیا ۔ جب اس سے بھی قرضوں کا بوجھ ختم نہ ہوا تو اس نے فرانس کے قرضوں کے معاوضہ میں فرانس کو انگلستان کے ساتھ سوئز میں شریک قرار دے دیا۔ اور سوئز کے اوپر جہاں پہلے انگلستان اور مصر کا کنٹرول تھا ، اب فرانس اور انگلستان کا کنٹرول قائم ہو گیا ۔ اور اسی کے ساتھ مصر میں ان کی سیاست کے داخلہ کا دروازہ بھی کھل گیا ۔
جمال عبد الناصر کا ۱۹۵۶ میں سوئز کو نیشنلائز کرنا گویا اسماعیل پاشا کی اسی غلطی کی اصلاح تھا۔ مگر صدر ناصر نے یہ دوسری غلطی کی کہ اسراف کی اصلاح کی اصلاح نا عاقبت اندیشانہ اقدام سے کرنی چاہی جو مصر کے حق میں پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوئی۔
زندگی خواہ افراد کی ہو یا قوموں کی ، نہایت نازک امتحان ہے۔ یہاں ہر ایک کے حوصلہ اور ہوش مندی کی جانچ ہو رہی ہے ۔ ہمیں ہر وقت چوکنار رہنا ہے ۔ کیونکہ کوئی ایک غلطی بھی اتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہے کہ ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دے اور ہمارے لئے بالآخر حسرت کے سوا اور کچھ نہ چھوڑے۔
اعلان
حیدر آباد میں اسلامی مرکز کی باقاعدہ شاخ قائم ہو گئی ہے ۔ وہاں کا پتہ حسب ذیل ہے:
مرکز اسلامی حیدر آباد اے ۳۷۴-۶-۳ حمایت نگر ، حیدر آباد ۵۰۰۰۲۹ Islamic Centre, 3-6-373/A, Himayatnagar, Hyderabad 500029 Telephone : 66812
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues