Al-Risala · February 1984 · page 42

خاتمہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۲

ایک سفر

۱۴ اکتوبر ۱۹۸۳ کی شام کو ۹ بجے میں دہلی ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں تھا۔ مجھ کو جاپان ایئر لائنز سے روم ہوتے ہوئے افریقہ جانا تھا۔ اس اثنا میں بغل کی سیٹ سے دو خوش پوش مسافروں کی گفتگو کے یہ الفاظ میرے کان میں آئے :

آپ کہاں جا رہے ہیں روم آپ کہاں جا رہے ہیں لندن میں نے سوچا کہ انسان کس قدر بے خبر ہے۔ اس کی جیب میں چونکہ ہوائی جہاز کا ٹکٹ ہے ، اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ وہ روم اور لندن جا رہا ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ اس کے اوپر خدا کے طاقتور فرشتے مقرر ہیں، جو اس انتظار میں ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور وہ آدمی کو اپنی پکڑ میں لے کر اس کو خدا کی عدالت میں پہنچا دیں۔ آدمی بالآخر خدا کی دنیا میں جانے والا ہے۔ مگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ خود اپنی دنیا میں جا رہا ہے۔ انسان کی یہ بے خبری کیسی عجیب ہے۔ جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۳۶ سے میں نے روم تک کا سفر کیا۔ میں اکثر معروف کمپنیوں کے جہازوں میں سفر کر چکا ہوں۔ مگر جاپان ایئر لائنز مجھے سب سے بہتر معلوم ہوئی۔ اس جہاز کی ہر چیز دوسرے جہازوں سے بہتر تھی۔ جہاز کی بناوٹ، عملے کی کارکردگی، مسافروں کی ضروریات کا اہتمام وغیرہ ہر چیز میں جاپان ایئر لائنز دوسری کمپنیوں سے ممتاز نظر آئی۔ روم سے طرابلس کا سفر الیتالیا کے ذریعہ طے ہوا ۔ جہاز کی تقریباً نصف سیٹیں خالی نظر آئیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ لیبیا میں بیرونی دنیا کے لئے تجارتی مواقع زیادہ نہیں ۔ سیاحت کی کشش بھی لیبیا میں زیادہ نہیں ہے۔ اور آجکل ہوائی سفر زیادہ تر تجارت کے لئے ہوتا ہے یا سیاحت کے لئے۔

تاہم پٹرول ڈالر کی طاقت کا اندازہ اس سے ہوا کہ الیتالیا (Alitalia) میں دورانِ پرواز جب دن کا کھانا آیا تو اس کے ساتھ ٹرے میں ایک کار ڈ بھی تھا جس میں عربی اور دوسری تین زبانوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا تھا :

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page