خاتمہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱
بہینچتا وہ (Diversion Pool) میں جاکر گر جاتا ہے۔
خاتمہ
اس بحث کو میں جارج برنارڈ شار (۱۹۵۰-۱۸۵۶) کے ایک قول پر ختم کروں گا۔ برنارڈ شا نے ایک بار کہا کہ اگر محمد جیسا کوئی آدمی موجودہ دنیا کا ڈکٹیٹر ہو جائے تو وہ اس کے مسائل کو اس طرح حل کر دے گا کہ دنیا میں وہ امن اور خوشی قائم ہو جائے جس کی ہمیں بہت زیادہ ضرورت ہے۔ If a man like Muhmmad were to assume the dictatorship of the modern world, he would solve its problems in a way that would bring it much needed peace and happiness. محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جس چیز نے محمد بنایا وہ خدا پر کامل ایمان تھا۔ آپ کی زندگی مومن کامل کا نمونہ تھی۔ اس اعتبار سے اگر برنارڈ شا کے الفاظ کو بدل کر یہ کہا جائے تو بالکل درست ہوگا کہ ـــــ آج دنیا میں اگر صحیح طور پر خدا کو ماننے والے پیدا ہو جائیں تو یقیناً دنیا میں امن قائم ہو جائے گا جس کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جمعیۃ علمائے ملائیریا کے تحت کو الالمپور میں ایک اسلامی کانفرنس ہوئی۔ یہاں ۵ نومبر ۱۹۸۳ کے پروگرام میں میرا ایک مقالہ (اسلام اور عصر حاضر) رکھا گیا تھا۔ زیر نظر مقالہ اس مقالہ کا اردو ترجمہ ہے جو اس موقع پر پیش کرنے کے لیے انگریزی میں تیار کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues