خاتمہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۴
دوران میں نے محسوس کیا کہ ہر ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ذہن پر ایک ہی چیز چھائی ہوئی ہے۔ اور وہ ہے مسلمانوں کے اوپر غیر قوموں کے حملہ کا مسئلہ۔ چنانچہ ہر آدمی بس دفاعی ذہن کے تحت سوچتا ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ مسلم دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی کوئی دوسرا کام کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کی طرف سے مقابلہ آرائی کا ماحول ختم نہ کیا جائے، ملت کی تعمیر و ترقی کا کوئی حقیقی کام کرنا ممکن نہیں سب سے عجیب بات جس کا مجھے بار بار تجربہ ہوا وہ یہ کہ آجکل دنیا بھر کے مسلمانوں میں ، اسلامی دعوت، کا لفظ بہت زیادہ بولا جارہا ہے۔ مگر اسلامی دعوت کا عملی مفہوم لوگوں کے ذہن میں شاید یہ ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کے لئے جو بھی چیخ و پکار کی جائے وہ سب کا سب اسلامی دعوت ہے۔ حتیٰ کہ اسلامی دعوت کا لفظ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی قومی دعوت کے ہم معنی بن کر رہ گیا ہے۔
میں نے لوگوں کے سامنے اپنا یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ اپنی قوتوں کو قومی دفاع کے محاذ پر خرچ کرنا گویا سبب کو چھوڑ کر نتیجہ پر محنت کرنا ہے۔ ہمارے تمام مسائل دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنے کا نتیجہ ہیں۔ جب تک امت مسلمہ اپنے اس فرض منصبی کو ادا نہیں کرے گی وہ دوسری قوموں کی جارحیت کا شکار ہوتی رہے گی۔ اس صورت حال سے نکلنے کی اس کے سوا کوئی اور تدبیر نہیں۔ فندق الکبیر میں ۱۸ اکتوبر کو دوپہر کے کھانے میں میرے ساتھ دوسرے دو آدمی میز پر تھے۔ ایک صاحب یورپ کے ایک ملک سے آئے تھے، دوسرے امریکہ سے۔ ایک صاحب نے گفتگو کے دوران اپنی جیب سے دور نگین فوٹو نکالے ۔ یہ دو بچوں کے فوٹو تھے۔ ایک ۱۰ ماہ کا اور دوسرا دو سال کا۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں میرے بچے ہیں اور وہ میری زندگی ہیں (They are my life)
اس کے بعد دوسرے صاحب نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹی بچی کا فوٹو نکال کر دکھاتے ہوئے کہا، "یہ میری نواسی ہے اور میں ہر وقت اس کا فوٹو اپنی جیب میں رکھتا ہوں" اسی طرح ایک بارایک افریقی عالم کے ساتھ باہر جانا ہوا۔ راستہ میں بازار پڑتا تھا۔ وہ کپڑے کی ایک دکان میں گھسے اور اس طرح لال پیلے کپڑے کی خریداری شروع کر دی جیسے اس سے زیادہ اہم ان کے نزدیک کوئی کام ہی نہیں۔
میں نے سوچا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں میں جی رہے ہیں۔ اور یہی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues