Al-Risala · February 1984 · page 45

خاتمہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۵

لوگ ہیں جو بین الاقوامی اسٹیج پر بیٹھ کر ملتِ اسلامیہ کے موضوع پر مجاہدانہ تقریریں کرتے ہیں۔ کناڈا سے آئے ہوئے ایک مسلمان پروفیسر نے سوال کیا کہ آپ کے اس قسم کے بیرونی سفروں کو انڈیا کی حکومت کس نظر سے دیکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں۔ اس لئے وہ اس میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ حسبِ ضرورت تعاون کرتے ہیں (جیسا کہ میں مالدیپ کے سفر کے ذیل میں لکھ چکا ہوں)، وہ فوراً بولے:

مگر اسلام تو سیاست سکھاتا ہے اور ہر مسلمان کو سیاسی ہونا چاہئے۔

اس کے بعد مزید گفتگو کے دوران انھوں نے مہاتما گاندھی کا ذکر کیا اور کہا کہ : He was an enemy of Islam میں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں۔ مہاتما گاندھی اسلام دشمن نہیں تھے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس مسلم سیاست کے مخالف تھے جو تقسیمِ ملک کے نظریہ کے تحت ہندوستانی مسلمانوں نے چلائی تھی۔ آپ چاہیں تو انھیں تقسیم دشمن کہہ سکتے ہیں مگر اسلام دشمن کہنا سراسر غلط ہے۔ یہ سن کر وہ مسکرائے اور کہا کہ آپ ہم کو حکومتِ ہند کے آدمی معلوم ہوتے ہیں ـــــــــ موجودہ مسلمانوں کی یہی منفی ذہنیت ہے جس نے ان سے حقیقت پسندانہ طرزِ فکر کو چھین لیا ہے۔ اور جس قوم سے حقیقت پسندانہ طرزِ فکر چھن جائے اس سے گویا سب سے بڑی چیز چھن گئی۔ ایسی قوم کا انجام صرف یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ تخیلات کی دنیا میں جیتی رہے۔ اس کو خدا کی حقیقی دنیا میں کبھی کوئی جگہ نہیں مل سکتی۔ ۲۰ اکتوبر کو طرابلس کے ایک اخبار کے نمائندہ نے صحافتی انٹرویو لیا۔ انھوں نے ہمارے اسلامی مرکز سے متعلق اور عالمِ اسلام سے متعلق بہت سے سوالات کئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ دورِ جدید کے مسلم مسائل کے بارے میں آپ کس طرح سوچتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل ان کی اسلام سے غفلت کا نتیجہ ہیں۔ جب تک یہ اصل وجہ دور نہ کی جائے کسی اور تدبیر سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

اسلامی مرکز کے بارہ میں میں نے بتایا کہ وہ ۱۹۷۰ء سے قائم ہے اور ماہنامہ الرسالہ اور کتابوں اور اجتماعات کے ذریعے پورے ملک میں خاموشی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اسلامی مرکز ایک خالص غیر سیاسی ادارہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں حقیقی اسلام کو زندہ کرنا ہے اور غیر مسلم اقوام کو سچے اسلام سے متعارف کرنا ہے۔ میں نے بتایا کہ اسلامی مرکز کا صدر دفتر دہلی میں ہے اور اس کا ایک تحتی مرکز حیدر آباد میں قائم کیا گیا ہے۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ دہلی کے مرکز کو اردو اور عربی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page