Al-Risala · February 1984 · page 46

خاتمہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۶

اور انگریزی اور ہندی میں اسلامی لٹریچر کی فراہمی کا مرکز بنائیں اور حیدر آباد کے تحتی مرکز کو ملک کی دوسری علاقائی زبانوں کا۔

طرابلس سے واپسی میں میں نے لیبین ایئر لائنز کے ذریعہ سفر کیا۔ یہ جہاز پہلے دمشق میں اترا۔ اس کے بعد اس نے مجھ کو کویت پہنچایا۔

ظہر اور عصر کی نمازیں میں نے اسی جہاز پر ادا کیں۔ ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے جب میں نے اپنا سر سجدہ میں رکھا تو عجیب احساس ہوا۔ سطح زمین پر سجدہ کرنے کے بجائے یہ فضا میں سجدہ تھا۔ جہاز جب فضا میں اڑ رہا ہوتا ہے تو بیک وقت دو چیزوں کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ مادہ کو خدا نے کس طرح انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے کہ وہ اس کو لئے ہوئے فضا میں اڑا چلا جا رہا ہے۔ اسی کے ساتھ دوسرا احساس اپنی بے چارگی کا رہتا ہے۔ دورانِ پرواز اگر جہاز میں کوئی خرابی ہو جائے تو اس کے بعد صرف موت ہوتی ہے جو مسافر کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ سجدہ میں یہ دونوں احساسات اس طرح سمٹ آئے کہ دیر تک سجدہ سے سر اٹھانے کا جی نہ چاہا۔ دل نے کہا: خدایا، کیسے عجیب ہیں تیرے کرشمے اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جوان کرشموں کو دیکھ کر بھی نہیں تڑپتے۔ جن کی آنکھیں بدستور خشک رہتی ہیں اور جن کی دنیا اس کے بعد بھی تیری گزر گاہ نہیں بنتی۔

کویت میں جہاز بدلنا تھا مگر یہاں تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے برٹش ایئرویز کا اگلا جہاز چھوٹ گیا۔ اس لئے کویت میں مجھ کو ۲۴ گھنٹہ رکنا پڑا۔ ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۳ کو دو بارہ میں دہلی واپس آگیا۔ طرابلس سے کویت تک کا سفر میں نے لیبین ایئرویز کے ذریعہ طے کیا۔ کویت سے دہلی کا سفر مجھے برٹش ایئرویز کے ذریعہ طے کرنا تھا۔ مگر لیبین ایئرویز کا جہاز لیٹ ہو گیا۔ ہم کویت اس حال میں پہنچے کہ جب لیبین ایئرویز کا جہاز ہم کو لے کر کویت کے ہوائی اڈہ پر اترا تھا تو برٹش ایئرویز کا جہاز کویت کے ہوائی اڈہ سے پرواز کر رہا تھا۔

میں نے سوچا کہ زندگی کا بڑا سفر بھی آدمی کو اسی طرح مرحلہ وار طے کرنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایک " جہاز " کے بعد دوسرا " جہاز " درکار ہوتا ہے جو آدمی کے سفر کو برابر جاری رکھے جس آدمی کی نظر صرف سامنے کی سواری پر ہو، اگلی سواری سے وہ بے خبر ہو تو عین ممکن ہے کہ جب وہ ایک مرحلہ سے گزر کر دوسرے مرحلہ میں پہنچے تو وہاں صرف یہ خبر اس کو سننے کو ملے کہ اگلے جہاز کا وقت آچکا تھا اس لئے " وہ تم کو لئے بغیر چلا گیا ۔ ۔۔۔۔۔۔ پہلے زینہ پر قدم رکھتے ہوئے اگلے زینہ پر بھی نگاہ رکھئے ، اسی وقت آپ سلامتی کے ساتھ چھت تک پہنچ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page