Al-Risala · March 1985 · page 2

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲

خدا کی اُو ہدایت پاش وکیپیڈیا کا استعمال کرکے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں (الزمر، ۶۷) اس سلسلے میں ایک حدیث مختلف روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز منبر پر سورہ زمر کی مذکورہ آیت پڑھی :

ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول هكذا بيده يحركها يقبل ويدبر ۔ يمجد الرب نفسه انا الجبار انا المتكبر انا الملك انا العزيز انا الكريم ( أين ملوك الارض) فرجف برسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر حتى تسلنا ليخرن به (تفسیر ابن كثیر)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کو حرکت دے رہے تھے اور آگے پیچھے ہورہے تھے۔ اللہ اپنی بزرگی بیان کرے گا۔ اور کہے گا کہ میں جبار ہوں۔

میں متکبر ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، میں عزیز وکریم ہوں۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ، یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوگیا حتی کہ ہم نے کہا کہ آپ منبر کے ساتھ گر پڑیں گے۔ جب ایک آدمی خدا کا حقیقی ادراک کرتا ہے تو اس کا حال وہی ہو جاتا ہے جو اوپر کی مثال میں خدا کے رسول کا نظر آتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کو اس وقت حسی طور پر نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ تصوراتی طور پر دیکھ رہے تھے۔ مگر خدا کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے آپ کا جسم ہل گیا۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہو ا کہ آپ زمین پر گر پڑیں گے۔ بے پردہ پہر پیر کی ہوئیں ؟

اسی کا نام خدا کی معرفت ہے۔ خدا کی معرفت اس مالک کائنات کی معرفت ہے جو سب سے بڑا ہے۔ جو سب سے طاقت ور ہے۔ ایسے خدا کو پانا محض سادہ پانا نہیں ہوتا۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر بھو نچال کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ خدا کی معرفت خدا کو دیکھے بغیر دیکھ لینا ہے۔ یہ اس وقت خدا کے سامنے ڈرہ پڑتا ہے جب کہ خدا ابھی زمین و آسمان کا پردہ پھاڑ کر عیاناً انسان کے سامنے نہیں آیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page