آہ کس قلم سے لکھا جائے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۳
آہ کس قلم سے لکھا جائے
کوئی جہاز مشکل میں پھنس جائے تو وہ ریڈیو کے ذریعہ خاص سگنل بھیجتا ہے۔ اس کو اصطلاح میں ایس او ایس (SOS) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم مصیبت میں ہیں، ہماری مدد کرو مگر اس قسم کے سگنل کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ اس کو وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت دے اگر وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت نہ دے تو وہ فضا میں بکھر کر رہ جائے گا۔ وہ ایسا کلام بن جائے گا جس کو بولنے والے کے سوا کسی اور نے سنا ہی نہ ہو۔
موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے اور بولنے والے بھی خدا کے نام گویا " ایس او ایس “ بھیج رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ خدا ! یا ظالموں کے خلاف ہماری مدد کر۔ مگر سو سالہ پکار کے باوجود ہماری مصیبت ختم نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ہم جس خدائی اسٹیشن کو اپنا ایس اوایس بھیج رہے ہیں اس کے نزدیک ہمارے ایس او ایس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔
ہم خدا سے دوسروں کی بربادی مانگ رہے ہیں مگر خدا اس کا منتظر ہے کہ ہم اس سے دوسروں کی ہدایت مانگیں۔ ہم اپنے قومی مقاصد کے لئے خدا کو پکار رہے ہیں۔ مگر خدا صرف اس پکار کو سنتا ہے، جو دینی مقاصد کے لئے گئی ہو۔ ہم لوگوں کو آگ میں ڈالنے کی دعا کر رہے ہیں حالانکہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگ سے بچانے کی دعا کریں۔ ایسی حالت میں ہمارا "ایس اوایس “ خدا کے یہاں کیسے قابلِ لحاظ ہو سکتا ہے۔ جو فائر بریگیڈ پانی لئے ہوئے بیٹھا ہو اس سے ہم کہیں کہ آگ برساؤ تو وہ کیسے ہماری بات کو سنے گا۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی جنتیں رزرو ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں دوسروں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر نہیں۔ اگر لوگوں کو اللہ کا ڈر ہو تو وہ جان لیں کہ قیامت میں اللہ کی پکڑ سے وہی شخص بچے گا جس نے دوسروں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے کی فکر کی ہو۔
لوگوں کے پاس الفاظ ہیں، صرف اس لئے کہ وہ قیامت کی ہولنا کی کو دوسروں کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اگر وہ جانیں کہ وہ خود بھی قیامت کی ہولنا کی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں تو ان کی زبانیں بند ہو جائیں۔ خدا کی پکڑ کا خوف ان کو اتنا ہلکان کر دے کہ وہ ہنسنے سے زیادہ روئیں۔ وہ بولنے سے زیادہ خاموش دکھائی دینے لگیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues