خدا کا داعی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۷
خدا کا داعی
ایک سائنس داں ایک بلڈنگ کے اندر ہے۔ اس کے آلات اس کو بتاتے ہیں کہ چند منٹ کے اندر یہاں بھونچال آنے والا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ بلڈنگ کے اندر بعض دوسرے انسانی مسائل بھی ہیں۔ ایسی حالت میں سائنس داں کیا کرے گا۔ اس وقت دوسرے مسائل اس کی نظر میں چھوٹے ہو جائیں گے۔ وہ ان کو بھول جائے گا۔ وہ صرف ایک ہی آواز دے گا ـــــ لوگو، چند لمحہ میں بھونچال اس بلڈنگ کو ڈھا دینے والا ہے۔ تم لوگ فوراً بلڈنگ سے نکل کر باہر آ جاؤ ۔ سائنس داں اس وقت بلڈنگ کے مسائل پر تقریر نہیں کرے گا بلکہ وہ بلڈنگ کو چھوڑنے کا مبلغ بن جائے گا۔ اب دوسری مثال لیجئے ۔ ایک ایسے آدمی کا تصور کیجئے جو کائنات میں ایسے مقام پر کھڑا ہوا ہے جہاں سے وہ ایک طرف ہماری موجودہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اور دوسری طرف جنت کے باغ اور جہنم کی آگ کے مناظر بھی اس کو بخوبی طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ایسا آدمی اس وقت کیا کرے گا، وہ کون سی بات ہوگی جس کے متعلق وہ چاہے گا کہ لوگوں کو اس کی خبر دے۔
یقینی طور پر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ دنیا کے مسائل پر تقریر شروع کر دے یا فلاح تمدن کا نسخہ لوگوں کو بتانے لگے۔ اس کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات ہوگی وہ صرف یہ ہوگی کہ لوگو، جہنم کی آگ سے بھاگو اور اپنے آپ کو جنت کا مستحق بناؤ۔
ایک شخص اگر اس سے بے خبر ہو کہ ایک سخت بھونچال اگلے لمحہ عمارت کو ڈھا دینے والا ہے تو وہ دوسری باتوں کو مسئلہ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جو شخص بھونچال کو آتے ہوئے دیکھ رہا ہو اس کو بھونچال کے سوا کوئی اور بات یاد نہیں رہے گی۔ حتیٰ کہ وہ ادبی تقاضے کے مطابق شاید یہ جملہ کہنا بھی بھول جائے کہ لوگو، بھونچال آ رہا ہے، تم لوگ اپنے آپ کو بھونچال سے بچاؤ ۔ وہ سب کچھ بھول کر صرف یہ پکارتا ہوا بھاگا گے گا کہ ـــــ بھونچال ، بھونچال۔
خدا کے داعی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ خدا کا داعی وہ ہے جس کو پردہ کے اس پار سے جنت کی خوشبو آ رہی ہو اور وہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔ ایسا شخص یقینی طور پر صرف آخرت کی باتیں کرے گا۔ دوسری چیزیں اس کے ذہن سے اس طرح نکل جائیں گی، جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues