زندہ قبرستان
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۶
زندہ قبرستان
میں اسپتال کے اندر کھڑا تھا۔ میرے سامنے طرح طرح کے مریض تھے۔ ہر مریض درد و الم کی تصویر بنا ہوا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں تکلیف تھی اور کسی کے پاؤں میں، کسی کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا، کسی کی پیٹھ حادثہ کا شکار ہو گئی تھی۔ اسپتال کی دنیا کا ہر آدمی مصیبت زدہ تھا۔ یہاں کا ہر باشندہ انسانی عجز کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔
میں نے سوچا ”جسم کی کوئی ایک بات بگڑ جاتی ہے تو آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے۔ پھر اس وقت آدمی کا کیا حال ہوگا جب کہ اس کی ساری بات بگڑ جائے گی۔ جب انسان سے اس کی ہر وہ چیز چھن جائے گی جس کو وہ اپنی چیز سمجھ کر سرکشی کر رہا تھا۔
پہلے زمانہ میں آدمی عبرت کے لئے قبرستان جاتا تھا۔ اب اس کو عبرت کے لئے اسپتال جانا چاہئے۔ قبرستان میں مصیبت زدہ زمین کے نیچے ہوتا ہے، اور اسپتال میں مصیبت زدہ زمین کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ قبرستان میں عبرت کی چیز کو سوچ کر تصور میں لانا پڑتا ہے۔ اور اسپتال میں عبرت کی چیز بالکل زندہ حالت میں آنکھ کے سامنے موجود ہوتی ہے۔
اسپتال گویا زندہ قبرستان ہے۔ اسپتال کی دنیا سراپا عبرت کی دنیا ہوتی ہے۔ کوئی آدمی حادثہ کا شکار ہو کر یہاں آیا ہے۔ کوئی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔ کسی کے جسم میں کوئی ضروری چیز کم ہو گئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کراہ رہا ہے۔ کوئی چیخ رہا ہے۔ غرض بے بسی و بے چارگی کے عبرت ناک مناظر ہمیں اسپتال میں ہر طرف بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ مناظر اس لئے دکھائے جاتے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔ وہ دوسروں کی تکلیف میں اپنی تکلیف کا عکس دیکھے۔ وہ جزئی واقعہ میں کلی حقیقت کا مشاہدہ کرے۔ وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کے واقعات کا احساس کرلے۔
ایسے مناظر ہر آدمی کے سامنے آتے ہیں۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان سے سبق لیتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سبق لینے کے لئے غیر کی حالت کو اپنے اوپر طاری کرنا پڑتا ہے۔ جو کچھ ابھی پیش نہیں آیا اس کا احساس اس طرح کرنا پڑتا ہے کہ گویا وہ پیش آ چکا ہے۔ یہ مستقبل کو حال کے اندر دیکھنا ہے اور کتنے لوگ ہیں جو مستقبل کو حال کے اندر دیکھنے والی نظر رکھتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues