کائنات کی شاہراہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۹
کائنات کی شاہراہ
انسان ایک کامل دنیا کے اندر غیر کامل وجود ہے۔ ستارے اور سیارے ، ہوا اور پانی، درخت اور جانور سب ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے وہ فطرت کی مقرر شاہراہ سے نہیں ہٹتے۔ اس کے برعکس انسان فطرت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔ انسان ویسا بنتا ہے جیسا اسے نہیں بننا چاہئے۔ انسان وہ کرتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے ۔
انسان کا یہ تضاد سوال بھی ہے اور اسی کے اندر اس کا جواب بھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے تمام مسائل کا سبب یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ سے ہٹ گیا ہے۔ اور اس کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ کو دوبارہ اختیار کرلے ۔
فطرت کی جو شاہراہ بقیہ چیزوں کے لئے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ان کو ایک معیاری دنیا میں ڈھال دے، وہی شاہراہ یقینی طور پر اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ وہ انسانی معاشرہ کو معیاری معاشرہ میں تبدیل کر سکے۔
ہماری غیر معیاری دنیا کے باہر جب ایک وسیع تر معیاری دنیا موجود ہے تو یقینی طور پر ہمارے لئے پہلا صحیح ترین انتخاب یہی ہو سکتا ہے کہ ہم اس دنیا کو سمجھیں اور اس کے اصولوں کو اپنی زندگی پر منطبق کریں ۔
کائنات کے مطالعہ سے جو واضح ترین بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ پوری مادی کائنات ایک متعین قانون فطرت میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مالیکیول سے پانی بننے کا جو اصول ہے وہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔ مختلف عناصر کے امتزاج سے کیمیائی مرکبات ہمیشہ ایک ہی لگے بندھے اصول کے تحت بنتے ہیں۔ معدنیات کا پگھلنا اور پانی کا بھاپ بننا ہمیشہ ایک ہی معلوم قانون فطرت کے مطابق وقوع میں آتے ہیں۔ یہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کے کردار کو اس حد تک معلوم اور متعین ہونا چاہئے کہ اس کی پیشین گوئی کی جاسکے۔ انسان کا کردار قابل پیشین گوئی کردار ہونا چاہئے ، نہ یہ کہ خواہشات کے تحت وہ کبھی ایک قسم کے کردار کا مظاہرہ کرے اور کبھی دوسرے قسم کے کردار کا اخلاقیات کا ایک ہی صحیح معیار ہے ، انسان کے لئے بھی اور بقیہ کائنات کے لئے بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues