کائنات کی شاہراہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰
خدا کا وجود
ممتاز ریاضی داں سر مائیکل فرانس اتیا حال ہی میں بمبئی آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ خدا ایک ریاضی داں ہے۔ خدا کو ریاضی داں قرار دینے کا نظریہ نیا نہیں ہے۔ تقریباً ۵۰ سال پہلے سرجیمز جینز نے کہا تھا کہ کائنات ایک ریاضی داں کا عمل ہے۔ اس سے بھی صدیوں پہلے فیتیا غورت نے کہا تھا کہ تمام چیزیں در اصل گنتیاں ہیں۔ پکا سو کے نزدیک خدا ایک آرٹسٹ ہے۔ اس نے کہا کہ خدافی الواقع دوسرا آرٹسٹ ہے۔ اس نے زرافہ ایجاد کیا۔ اس نے ہاتھی بنایا۔ اس نے بلی بنائی۔ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ خدا لطیف ہے اور اگر چہ وہ کسی کو برا چاہنے والا نہیں مگر وہ بہت ہوشیار ہے: جو شخص بھی کائنات کو زیادہ گہری نظر سے دیکھتا ہے اس کو ایک چیز کا یقینی احساس ہوتا ہے ۔ یہاں کوئی اور ہے جو سب سے بڑا ہے اور خود اس کی اپنی ذات سے بھی۔ ریاضی داں کو کائنات میں ایسی اونچی ریاضی نظر آتی ہے جہاں اس کو اپنی ریاضی بھول جاتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا بہت بڑا ریاضی داں ہے۔ ایک آرٹسٹ جب کائنات کو اپنی نظر سے دیکھتا ہے تو یہاں اس کو اتنا اعلیٰ آرٹ نظر آتا ہے کہ اس کا اپنا آرٹ اس کی نگاہ میں ہیچ ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدا سب سے بڑا آرٹسٹ ہے۔ ایک عاقل والا آدمی جب کائنات کی حکمتوں پر نظر ڈالتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہاں کوئی اور ہے جو تمام عقلوں سے زیادہ بڑی عقل والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا سب سے بڑا ریاضی داں، سب سے بڑا آرٹسٹ، سب سے بڑا عقل ہے اور اس کے ساتھ وہ مزید بہت کچھ ہے۔ جو شخص کائنات میں خدا کے نشان کو نہ دیکھے وہ اندھا ہے اور جو شخص دیکھ کر بھی اس کو نہ مانے وہ مجنون ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues