Al-Risala · March 1985 · page 12

خدا سے بغاوت

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲

خدا سے بغاوت

خدا نے اپنی دنیا کا ایک منصوبہ بنایا۔ اس منصوبہ کے مطابق وہ اپنی دنیا کو چلا رہا ہے۔ جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت کر کے اس دنیا میں رہیں وہ خدا کے فرماں بردار بندے ہیں۔ خدا ان کو اپنے ابد انعامات سے نوازے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت نہ کریں وہ خدا کی دنیا میں فساد پھیلانے کے مجرم ہیں۔ خدا انہیں عنقریب پکڑ لے گا اور ان کو ایسی سزا دے گا جس سے ابدی تک نکلنا ان کے لئے ممکن نہ ہو۔

خدا ہر صبح سورج کو روشن کرتا ہے تاکہ اس کے بندے اس کی روشنی میں چلیں۔ مگر ایک انسان دوسرے انسان کو اندھیرے میں دھکیل دینا چاہتا ہے۔ خدا زمین سے رزق اگاتا ہے تاکہ اس کے بندے اس سے اپنی بھوک مٹائیں۔ مگر ایک انسان دوسرے انسان کو بھوک سے تڑ پا کر خوش ہوتا ہے۔ خدا اپنے پاس سے بارش برساتا ہے تاکہ تمام انسان اور جاندار اس سے سیراب ہوں۔ مگر انسان اپنے مفروضہ دشمنوں کو پیاس سے تڑ پا کر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔

خدا لوگوں کے لئے مواقع کھولتا ہے تاکہ وہ ان مواقع کا استعمال کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ مگر انسان یہ منصوبہ بناتا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے ملے ہوئے مواقع کو چھین لے۔ خدا ایک انسان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ مگر دوسرا انسان حسد میں مبتلا ہو کر چاہتا ہے کہ اس کو بے عزت کرے اور اس کو ناکام بنا کر چھوڑ دے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں فساد فی الارض کہا گیا ہے۔ یعنی خدا نے اپنی دنیا کا نقشہ جس ڈھنگ سے بنایا ہے اس میں بگاڑ پیدا کرنا۔ خدا کی دنیا میں خدا کے منصوبہ کے خلاف زندگی گزارنا۔ خدا کی زمین میں خدا کی پسند کو چھوڑ کر وہ روش اختیار کرنا جو آدمی کی پسند اور خواہش کے مطابق ہو۔

انسان خدا کی اسکیم کی نفی کرتا ہے۔ انسان خدا کے فیصلہ کو بدل دینا چاہتا ہے۔ یہ خدا کی دنیا میں خدا کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ سب سے بڑا جرم ہے جو کوئی انسان اس زمین پر کر سکتا ہے۔ آج یہ سب سے بڑا جرم خدا کی زمین پر سب سے بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بغاوت کے مرتکب وہ لوگ بھی ہیں جو خدا کی بغاوت کو خدا کی زمین سے ختم کرنے کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page