مستقبل کا یقین
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱
مستقبل کا یقین
ڈارنگٹن ہال (Darlington Hall) انگلینڈ کا ایک ممتاز اسکول ہے۔ وہاں ایک طالب علم کو سالانہ پانچ ہزار پونڈ تعلیمی فیس دینی پڑتی ہے۔ اس کے پرنسپل بلیکشا (Dr. Lyn Blackshaw) نے جولائی ۱۹۸۳ء کو اسکول اسٹاف کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں طلبہ کو اپنی ڈگری بے قیمت معلوم ہونے لگی ہے۔ ان کو یقین نہیں ہے کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد اپنی پسند کے مطابق کوئی روز گار حاصل کریں گے۔ اس بے یقینی کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے اندر جھنجھلاہٹ کی نفسیات پیدا ہو رہی ہے۔ اور وہ کثرت سے جرائم کرنے لگے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ:
The worst thing we can do for our children is to destroy their faith in the future. سب سے بری چیز جو ہم اپنے بچوں کے لئے کر سکتے۔ ہیں وہ یہ ہے کہ مستقبل کے بارہ میں ان کے یقین کو برباد کر دیں (سنڈے ٹائمز، لندن، ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء)
پرنسپل کے اس جملہ پر ہم یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے بعد روزگار حاصل کرنے کا مسئلہ انسان کے "مستقبل" کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ مستقبل کا مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے موجودہ مرحلہ سے لے کر موت کے بعد کی ابدی زندگی تک چلا گیا ہے۔
انسان کو کامل اطمینان اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ اس کو اس کے پورے مستقبل کے بارہ میں پر امید نقطہ نظر مل جائے۔ جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے جتنے غالب افکار ہیں سب نے موت کے بعد ابدی مستقبل کے بارہ میں انسان کے یقین کو برباد کر دیا ہے۔ یہی جدید انسان کے عدم اطمینان کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ ہے۔
انسان کو جب تک ایک ایسا کامل نقطہ نظر نہ دیا جائے جو اس کے حال اور مستقبل کو ابدی طور پر پرامید بناتا ہو، وہ کبھی حقیقی معنوں میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ایک نوجوان کو اپنے دنیوی مستقبل کا مسئلہ پریشان کرتا ہے، مگر جب وہ اپنا دنیوی مستقبل تعمیر کر چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ اب دوسرے الات اس کو پریشان کرنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پریشانیوں سے آدمی اسی وقت نجات پا سکتا ہے جب کہ وہ ابدی عمر تک کے لئے اپنے سو سوالات کا جواب پالے نہ کہ صرف وقتی عمر تک کے لئے۔
||
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues