Al-Risala · March 1985 · page 17

نا تمام کہانی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷

نا تمام کہانی

مسٹر پی ۔ این ۔ پاٹھک ایک بے حد محنتی آدمی تھے۔ وہ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (نئی دہلی) میں ایک معمولی ملازم کے طور پر ۱۹۵۸ میں داخل ہوئے اور آخر میں اس کے کمپوزنگ شعبہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ وہ غالباً مزید ترقی کرنے مگر ۲۷ دسمبر ۱۹۸۴ کو حرکتِ قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ مرنے کے وقت ان کی عمر صرف ۵۰ سال تھی۔

ہندوستان ٹائمس (۲۸ دسمبر ۱۹۸۴) میں ان کی اچانک موت کی خبر دیتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں کہ وہ اپنے موجودہ عہدہ پر محض سخت محنت کے ذریعہ پہنچے تھے:

He rose to the present position by sheer hard work مسٹر پاٹھک نے الہ آباد میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد چند سال تک وہ ٹائمس آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس میں رہے ۔ اس کے بعد ۱۹۵۸ میں وہ ہندوستان ٹائمس کے عملہ میں داخل ہوئے۔ یہاں انہیں جم کر کام کرنے اور محنت کرنے کا موقع ملا۔ ۲۵ سال محنت کے بعد وہ اخبار میں ایک بڑے عہدہ پر پہنچ گئے۔ مگر ابھی وہ اس عہدہ سے متمتع بھی نہیں ہو سکے تھے کہ اچانک موت کا وقت آگیا۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کیسے عجیب المیہ سے دوچار ہے۔ انسان بے پناہ محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی پوری طاقت خرچ کرکے ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے۔ مگر اپنی کوششوں کے آخری انجام سے فائدہ اٹھانے کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ زندگی کا یہ خاتمہ کیسا درد ناک ہے۔ مگر کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا۔ ہر آدمی دوبارہ اسی درد ناک کہانی کو لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیشرو نے لکھنا چاہا تھا اور وہ اس کو لکھنے میں کامیاب نہ ہوا۔ تمام انسانوں کی کہانی نا مکمل کہانی ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو یہ سوال لیے چین کرے کہ اس کا راز کیا ہے اور وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کرکے انسان کی کہانی مکمل کہانی بن سکے۔

ہر انسان اس دنیا میں ایک نا تمام کہانی ہے۔ ہر انسان اپنی منزل پر پہنچ کر اچانک بے منزل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی یہ بے انجام ی کیسی عجیب ہے۔ اور اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ کسی کو اپنی بے انجامی کی فکر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page