Al-Risala · March 1985 · page 18

مقبولیت کاراز

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸

مقبولیت کاراز

بنجمن فرینکلن(Benjamin Franklin) اپنے بچپن میں (Tactless) مشہور تھا۔ مگر بعد کو اس نے اتنا مقام پیدا کبا کہ وہ امریکہ کی طرف سے فرانس میں سفیر بنا کر بھیجا گیا۔ اس کی کامیابی کاراز کیا تھا۔ صرف یہ کہ تجربات سے اس نے جانا کہ لوگ اپنے خلاف تنقید سے بہت برہم ہوتے ہیں۔ اس نے طے کیا کہ میں کبھی کسی کی کوئی خرابی نہیں بیان کروں گا۔ میں ہر ایک کی صرف خوبیاں بیان کروں گا:

I will speak ill of no man, and speak all the good I know of everybody. یہی وجہ ہے کہ با اصول آدمی ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض ہوتا ہے اور بے اصول آدمی کو لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ یا اصول آدمی ہمیشہ حق کہتا ہے، خواہ وہ کسی کے موافق ہو یا کسی کے خلاف۔ جب کہ بے اصول آدمی ہر موقع کے لحاظ سے وہ بات کہتا ہے جس کو سن کر لوگ خوش ہو جائیں۔ سب کی پسند کی بات کہنے کی اسے یہ قیمت ملتی ہے کہ وہ سب کی نظر میں پسندیدہ شخص بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ تاجر کے لئے یقیناً مفید ہے مگر وہ داعی اور مصلح کے لئے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح بولنے والے کے اندر وہ کردار ابھرتا ہے جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہا گیا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو اندر سے کچھ ہوتا ہے اور باہر سے کچھ۔ وہ دل میں ایک چیز کو حق سمجھتا ہے اور زبان سے اس کے خلاف بولتا ہے۔ اس کی عقل اس کو ایک طریقہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے مگر محض اپنی قیادت کو باقی رکھنے کی خاطر وہ لوگوں کے سامنے دوسرے طریقہ کی وکالت کرتا ہے۔ اس کی آنکھ اس کو جو چیز اندھیرے کی صورت میں دکھاتی ہے اس کو وہ اپنی زبان سے اجالا بنا کر پیش کرتا ہے۔ ایسا انسان باعتبار حقیقت ایک مردہ انسان ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ زندہ اور خوش پوش دکھائی دیتا ہو۔

داعی خدا کا سفیر ہوتا ہے۔ مگر دنیوی حکومتوں کے سفیر میں اور خدا کے سفیر میں بہت بڑا فرق ہے دنیوی حکومت کا سفیر وہ بات کہنے کے لئے بھیجا جاتا ہے جس سے لوگ خوش ہوں۔ مگر خدا کا سفیر لوگوں کے سامنے اس لئے آتا ہے کہ انہیں وہ بات بتائے جس سے خدا خوش ہوتا ہے۔ ایک مصلحت کو سامنے رکھ کر بولنا ہے۔ دوسرا حق کے تقاضے کو سامنے رکھ کر بولتا ہے۔ خواہ اس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page