ناكام موت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹
ناكام موت
مسٹر بی ڈی کھو بر اگاڑ ۹ اپریل ۱۹۸۰ کو دہلی کے پنت اسپتال میں مر گئے۔ وہ ایک ہر یجن لیڈر تھے۔ انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ اونچی ذات والوں کے امتیازی سلوک کو دیکھا۔ ان کے اندر اس کے خلاف آگ بھڑک اٹھی۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ اس امتیاز کی بنیاد خود اس ہندوستانی مذہب میں ہے جس سے وہ اب تک اپنے کو منسوب سمجھے ہوئے تھے تو انھوں نے مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر امبیڈ کر اور لاکھوں دوسرے ہر یجنوں کے ساتھ وہ بدھزم میں داخل ہوگئے۔ مگر اس کے با وجود ہر یجنوں کے ساتھ سماجی امتیاز ختم نہیں ہوا۔
اب کھو برا گاڑ اور ان کے ساتھیوں نے دوسری تدبیر کی۔ انھوں نے ریپبلکن پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی۔ انھوں نے چاہا کہ جو مسئلہ تبدیلی مذہب سے حل نہیں ہوا اس کو تبدیلی حکومت کے ذریعہ حل کیا جائے۔ مگر اقدام بھی کامیاب نہیں ہوا۔ خود ری پبلکن پارٹی میں اندرونی اختلافات پیدا ہو گئے۔ وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ مایوس کھو براگاڑ ۵۹ سال کی عمر میں اس دنیا سے چلے گئے۔ مسٹر کھو برا گاڑ اپنی اس زندگی کے مسئلہ کا حل تلاش کرتے رہے جو ۵۹ سال " میں ختم ہو جانے والی تھی ۔ آج اگر کوئی شخص ان سے پوچھے تو یقینا وہ کہیں گے _________ افسوس کہ میں وقتی زندگی کے مسائل میں الجھا رہا اور اپنی اس زندگی کے لئے کچھ نہیں کیا جس سے ابدی سابقہ پیش آنے والا تھا۔ لوگ آج کے مسائل میں اتنا مشغول ہیں کہ انھیں کل کے مسائل پر سوچنے کی فرصت نہیں۔ وہ حال کے اندر اتنا گم ہیں کہ ان کو یہ پروا نہیں کہ وہ مستقبل کے بارہ میں سوچیں۔ لوگ اسی طرح غفلت میں پڑے رہتے ہیں یہ یہاں تک کہ ان کی موت آ جاتی ہے۔ انسانوں میں الجھا ہوا آدمی اچانک اپنے آپ کو خدا کے سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے ۔ دنیا کے مسائل کو سب کچھ سمجھنے والا آدمی وہاں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں صرف آخرت کے مسائل کسی آدمی کے لئے سب کچھ ہوں گے۔ ظواہر کو اہمیت دینے والا آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں حقیقت کے سوا کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔
انسان کو دیکھئے تو وہ کتنا حیرت انگیز وجود معلوم ہوتا ہے۔ انسان کی صلاحیتیں اتنی عجیب ہیں کہ ساری کائنات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی چیز نہیں۔ مگر کیسا درد ناک انجام انسان کے حصہ میں آیا ہے۔ کیسی قیمتی زندگی کیسے بے قیمت انجام پر ختم ہو جاتی ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس کو سوچے، کوئی نہیں جو زندگی کو معنی بنانے کے لئے فکر مند ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues