Al-Risala · March 1985 · page 21

خوراک

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

خوراک

والٹر ڈی لامیر (Walter De La Mare) ایک انگریز شاعر ہے۔ وہ ۱۸۷۳ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۵۶ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے انسان کے بارے میں ایک طنزیہ نظم کہی ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:

It is a very odd thing As odd as can be That whatever Miss T eats Turns into Miss T یہ ایک نہایت عجیب بات ہے، اتنی عجیب جتنی کہ کوئی چیز عجیب ہو سکتی ہے۔ مس ٹی جو کچھ بھی کھاتی ہے وہ سب مس ٹی بن جاتا ہے۔

ہر آدمی کی اپنی ایک منفرد شخصیت ہوتی ہے۔ اس کا رنگ، اس کے بدن کی ساخت، اس کے بولنے کی زبان، اس کا طرزِ فکر سب اس حد تک دوسروں سے مختلف ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہچانا جاسکے۔ آدمی روزانہ طرح طرح کی چیزیں کھاتا ہے۔ مگر وہ جو کچھ کھاتا ہے وہ اس کے اندر جاکر اس کی اپنی شخصیت میں ڈھل جاتا ہے۔ کوئی کھانے کی چیز باہر خواہ کچھ بھی ہو مگر وہ آدمی کے اندر داخل ہونے کے بعد وہی بن جاتی ہے جو وہ خود ہوتا ہے۔ ہر آدمی جو خوراک کھاتا ہے یا جو پانی وہ اپنے جسم میں داخل کرتا ہے اس کو وہ تحلیل کرکے اپنے وجود کا حصہ بنالیتا ہے۔ یہی معاملہ خیالات و نظریات کا بھی ہے۔ آدمی بہت کم ایسا کرتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھے یا سنے اس کو اس طرح دیکھے جیسا کہ فی الواقع وہ ہے۔ اکثر وہ چیزوں کو اس شکل میں دیکھتا ہے جیسا کہ وہ خود دیکھنا چاہتا ہے۔ ہر بات جو آدمی کے اندر داخل ہوتی ہے وہ اس کے اپنے ذوق کے مطابق بدل کر اس کی فکر کا جزء بن جاتی ہے۔

اسی مثال میں مومن اور غیر مومن کا فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ دنیا طرح طرح کے واقعات و حقائق سے بھری ہوئی ہے۔ یہ واقعات و حقائق مومن کے سامنے بھی آتے ہیں اور غیر مومن کے سامنے بھی۔ مگر دونوں انھیں اپنے اپنے زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک کے لئے وہ اس کے ایمان کی غذا بن جاتے ہیں۔ مگر دوسرے کو ان سے اس کے سوا کچھ اور نہیں ملتا کہ اس کی سرکشی اور گمراہی میں اضافہ ہو جائے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page